خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 368

خطبات محمود 368 * 1942 ایک صحابی کا واقعہ ہے۔ان کی عمر 18-20 سال کی تھی کہ وہ مسلمان ہو گئے۔وہ والدین کے اکلوتے بیٹے تھے مگر جب ماں باپ کو علم ہوا کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں تو ان کے ساتھ چھوت چھات شروع کر دی اور ان کے بر تن الگ کر کے کہہ دیا کہ تم ان میں کھایا پیا کرو اور پھر اتنی سختی شروع کر دی کہ ان سے کہا کہ محمد (صلی ) کے پاس نہ جایا کرو اور آخر کچھ عرصہ تک یہ سختیاں سہنے کے بعد تنگ آکر وہ نوجوان صحابی ہجرت کر کے حبشہ کی طرف چلے گئے اور وہاں کئی سال رہنے کے بعد واپس آئے اور ماں باپ کے ہاں گئے۔ان کا خیال تھا کہ شاید اب ماں باپ کا دل پسیج گیا ہو گا اور اب وہ سختی نہ کریں گے۔جب وہ گھر پہنچے تو ماں اٹھی بیٹے کو گلے لگایا اور پیار کیا۔اس نے خیال کیا کہ اب میرے بیٹے نے توبہ کرلی ہو گی اور بیٹے نے سمجھا کہ اب ماں کے دل میں رحم آگیا ہو گا اور وہ سمجھ گئی ہو گی کہ میرے مذہب کے معاملہ میں اسے دخل نہ دینا چاہئے۔دونوں فریق ایک دوسرے کے متعلق اس غلط فہمی میں تھے کہ اس نے اپنا مقام چھوڑ دیا ہے حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ماں اسی طرح تعصب پر قائم تھی اور بیٹا بھی اپنے ایمان میں اسی طرح پختہ تھا مگر دونوں غلط فہمی میں تھے۔بیٹا سمجھتا تھا کہ ماں آئندہ میرے مذہب میں دخل نہ دے گی اور ماں سمجھتی تھی کہ میرے بیٹے نے توبہ کر لی ہو گی۔مگر تھوڑی دیر کی گفتگو کے بعد دونوں کو اپنی اپنی غلطی کا علم ہو گیا۔ماں نے کہا بیٹا تمہیں ایک اجنبی سے کیا واسطہ جس سے تمہاری نہ کوئی رشتہ داری ہے اور نہ تعلق۔تم ہمارے اکلوتے بیٹے ہو۔کیا تم اس محبت کو بھول جاؤ گے جس سے میں نے تمہیں پالا پوسا ہے اور اس قربانی کو نظر انداز کر دو گے جو تمہارا باپ تمہارے لئے کرتا رہا ہے اور ہمارے دلوں کو زخمی کر کے اس شخص کے پاس چلے جاؤ گے جس کے پاس تمہارا جانا ہمیں پسند نہیں۔یہ بات سن کر بیٹے نے کہا کہ ماں یہ بات نہیں کہ میں تمہاری محبت کو بھول گیا ہوں۔میں اپنے باپ کی قربانیوں کو بھی جانتا ہوں لیکن اگر میرا تمہارے پاس رہنا اس شرط سے مشروط ہے کہ میں محمد صلی اللی کام کے پاس نہ جاؤں اور ان کو چھوڑ دوں تو یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔اگر محمد صلی نیلم کے ساتھ تعلق رکھتے ہوئے میر اگھر میں آنا تمہیں ناگوار ہے تو میں گھر میں نہ آؤں گا لیکن میں اس تعلق کو ہر گز نہیں چھوڑ سکتا۔ماں بھی تعصب بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ بغض و کینہ میں پکی تھی۔اس نے کہا کہ بیٹا اگر تو محمد (صلی لینی)