خطبات محمود (جلد 23) — Page 367
* 1942 367 خطبات محمود تیرہ سال تک مکہ میں بھلا کو نسی تلوار چلائی تھی مگر اس کے باوجو د بھائی بھائی سے ، خاوند بیوی سے اور بیوی خاوند سے لڑے۔دوست نے دوست کو ، ماؤں نے بیٹوں کو اور بیٹوں نے ماؤں کو جواب دے دیا۔بھلا وہ کونسا سیاسی ظلم تھا اور کونسا اقتصادی نقصان تھا جو مسلمانوں سے مشرکوں کو پہنچ رہا تھا۔مسلمانوں کا اس سے زیادہ کیا قصور تھا کہ وہ اپنے گھروں میں خدا تعالیٰ کا نام لیتے تھے۔اس کے سوا وہ نہ مکہ کی سیاست کو کوئی نقصان پہنچارہے تھے اور نہ اقتصادیات کو اور نہ ہی وہ اہل مکہ کے ساتھ کسی قسم کی بد سلو کی روار کھتے تھے۔اگر کوئی فرق تھا تو صرف یہ کہ پہلے جو ظلم وہ کر لیا کرتے تھے۔اب اسلام کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا تھا۔اس کے سوا کوئی فرق نہ تھا۔احادیث میں رسول کریم صلی الی یوم کے متعلق آتا ہے کہ آپ ایک دن خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ دشمنوں نے آکر حملہ کر دیا۔بھلا ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کا نماز سے کیا نقصان ہو تا تھا۔مسلمان اپنے خدا کو یاد کرتے تھے اور دل میں کرتے تھے۔چند کلمات آہستہ آہستہ ان کی زبان پر جاری ہوتے تھے اور اس سے دوسروں کا کیا نقصان ہو سکتا تھا۔مگر انہوں نے رسول کریم صلی اللی کم پر جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، حملہ کر دیا۔آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر گلا گھونٹنا چاہا۔اتنے میں کسی نے دوڑ کر حضرت ابو بکر کو خبر دی۔آپ آئے اور جو فقرہ آپ نے اس وقت کہا۔وہ اس وقت کی کیفیت کا پورا پورا آئینہ ہے اور پوری طرح اسے آشکار کرتا ہے۔انہوں نے ان کو ہٹاتے ہوئے کہا کہ تم کو اس آدمی سے کیا واسطہ جس کا جرم سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ ایک خدا کا پرستار ہے اور اس کی پرستش کرتا ہے۔1 یعنی وہ نہ تمہاری سیاست میں تمہارا مقابلہ کرتا ہے ، نہ اقتصادی نظام میں کوئی دخل دیتا ہے اور نہ تمہاری پنچایتوں میں بولتا ہے اور نہ تمہاری پارٹی بازیوں میں حصہ لیتا ہے۔اس کا جرم سوائے اس کے کیا ہے کہ وہ ایک خدا کی عبادت کرتا ہے اور ایک ایسا کام کرتا ہے جس کے کرنے میں انسان اپنے قریب ترین تعلق دار کی مداخلت سے بھی آزاد ہوتا ہے۔باپ بیٹے کی عبادت میں دخل نہیں دے سکتا اور بیٹا باپ کی عبادت میں دخل نہیں دے سکتا۔وہ کونسا ایسا کام کرتا ہے جس کا تمہارے ساتھ واسطہ ہے مگر باوجود اس کے مسلمانوں کی مخالفت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ مائیں اپنے اکلوتے بیٹوں کو جدا کر دیتی تھیں۔