خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 294

* 1942 294 خطبات محمود میں بھی پایا جاتا تھا۔مجھے ہمیشہ ہی ان کے اخلاص اور جوش کی مثال میں خنساء کا واقعہ یاد آیا کرتا ہے۔ایران کی ایک جنگ میں مسلمانوں پر ایرانیوں نے ہاتھیوں سے حملہ کر دیا جس کے نتیجہ ت سے مسلمان مارے گئے۔مسلمانوں کی جس قدر کفار سے لڑائیاں ہوئی ہیں ان میں سے یہ پہلی لڑائی تھی جس میں مسلمان زیادہ مارے گئے۔میں نے ابھی کہا تھا کہ لڑائیوں میں مسلمان اکثر محفوظ رہتے تھے اور اب میں نے کہا ہے کہ اس لڑائی میں مسلمان زیادہ مارے گئے۔بظاہر یہ اختلاف نظر آتا ہے لیکن در حقیقت کوئی اختلاف نہیں کیونکہ واقعہ یہی ہے کہ کفار کے مقابلہ میں کثرت سے مسلمان محفوظ رہتے تھے اور ان میں سے بہت کم شہید ہوتے تھے لیکن شاذ و نادر کے طور پر کسی جنگ میں مسلمانوں کو بھی زیادہ نقصان ہوا ہے۔گو یہ نقصان مجموعی طور پر دیکھیں تو کفار کے مقابلہ میں پھر بھی کم ہوا کرتا تھا۔بہر حال اس جنگ میں مسلمانوں کو بڑا بھاری نقصان پہنچا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب اس جنگ کی خبروں کو سنا تو آپ گھبرا کر اس بات پر تیار ہو گئے کہ خود لڑائی کے میدان میں پہنچ کر لشکر کی کمان کریں مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو روکا اور کہا کہ خلیفہ کے لئے لڑائی کے میدان میں جانا درست نہیں ہو سکتا۔اگر آپ لڑائی پر چلے گئے تو لوگوں کو ہدایات کون دے گا۔چنانچہ اس مشورہ پر حضرت عمرؓ نے لڑائی میں شامل ہونے کا ارادہ ترک کر دیاور نہ گھبراہٹ میں آپ خود اس جنگ میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔اس جنگ کے بعد صحابہ نے دوبارہ اپنی طاقت کو جمع کیا اور ایرانیوں کے مقابلہ کے لئے تیار ہوئے مگر اس وقت بھی یہ حالت تھی کہ مسلمانوں کے لشکر کی تعداد صرف 15 ہزار تھی اور ایرانیوں کے لشکر کی تعداد جن کا سپہ سالار رستم تھا ایک لاکھ تھی۔اس جنگ میں ایرانیوں نے چونکہ حملہ کے وقت ہاتھیوں کو استعمال کیا تھا اس لئے مسلمان ہاتھیوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور ان میں سے اکثر مارے گئے۔جیسے موجودہ جنگ میں بھی جاپانیوں نے برما میں ہاتھیوں کے ذریعے حملے کئے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آدمیوں اور گھوڑوں کے لئے ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا۔پھر ایرانیوں کو یہ بھی فضیلت تھی کہ وہ تنخواہ دار سپاہی تھے اور ساری عمر چھاؤنیوں میں وہ ٹریننگ حاصل کرتے رہے تھے۔اسی طرح ان کے پاس سامان نہایت اعلیٰ