خطبات محمود (جلد 23) — Page 275
* 1942 275 خطبات محمود دخل دوں تو وہ دیتا ہے۔پس گو اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزادی دی ہے مگر وہ دخل بھی دیتا ہے۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے انگلیاں دی ہیں، منہ دیا ہے اس کے سامنے کھانا آتا ہے وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے لقمہ اٹھاتا ہے اور منہ میں ڈالتا ہے۔فرشتے کہیں بھی اس کا ہاتھ نہیں روکتے۔دنیا کی آبادی اس وقت دو ارب کے قریب ہے اور ہر جگہ لوگ عام طور پر دوبار کھانا کھاتے ہیں اور بعض ملکوں میں تو پانچ پانچ بار بھی کھاتے ہیں اور پھر مقررہ اوقات پر کھانوں کے علاوہ شغل کے طور پر بھی کئی چیزیں کھاتے پیتے ہیں۔ہر شخص کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے لقمہ اٹھاتا اور منہ میں ڈالتا ہے اور وہ گلے سے نیچے اتر جاتا ہے ، کبھی کسی ایک جگہ بھی تو ایسا نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ یا فرشتوں نے کسی کے ہاتھ کو روکا ہو۔یہ ایک عام قانون ہے جس میں کافرومومن کی بھی کوئی تمیز نہیں کہ کسی انسان کا ہاتھ کھانے سے نہیں روکا جاتا مگر جب خدا تعالیٰ کی تقدیر چلتی ہے تو ہاتھ رک بھی جاتا ہے۔آنحضرت صلی علیم کے سامنے ایک دفعہ کھانالا یا گیا آپ نے اس میں ہاتھ ڈالا، لقمہ بنایا، اسے منہ کے پاس لے گئے مگر پھر اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ یہ کھانا خدا تعالیٰ کے حکم سے بولا ہے اور اس نے کہا ہے کہ مجھ میں زہر ہے اور آخر میزبان نے مان لیا کہ میں نے آپ کو ہلاک کرنے کی غرض سے اس میں زہر ڈالا تھا۔تو دیکھو جب خدا تعالیٰ کی مشیت ہوئی وہی سامان جو روزانہ چلتے تھے یکدم بدل گئے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے خاص تقدیر جاری کر دی اور آپ کو اطلاع دے دی کہ اس کھانے میں زہر ہے اسے نہ کھایا جائے۔اسی طرح سید عبد اللطیف صاحب شہید کا ایک واقعہ ہے جب آپ افغانستان کو واپس جارہے تھے تو لاہور میں کچھ تحائف وغیرہ خریدنے کے لئے ٹھہرے۔انہی دنوں وہاں کسی احمدی کے لڑکے کے ولیمہ کی دعوت تھی جس میں اس نے آپ کو بھی مدعو کیا۔آپ تشریف لے گئے۔بہت سے اور دوست بھی موجود تھے۔آپ کو احترام کے ساتھ بٹھایا گیا۔جب کھانا شروع ہوا تو آپ نے بھی لقمہ اٹھایا مگر پھر اسے پھینک دیا اور استغفار کرتے ہوئے وہاں سے چل دیئے۔بعض دوست آپ کے پیچھے گئے اور کہا کہ میزبان کی بہت دل شکنی ہو گی آپ اٹھ کر نہ جائیں اور کھانے میں شریک ہوں مگر آپ نے کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ :۔********* “ یہ کھاناسور ہے”