خطبات محمود (جلد 23) — Page 232
* 1942 232 خطبات محمود ان کی اکثریت اسلام کے خدا کے لئے غیرت رکھتی ہے۔ان کی اکثریت اسلام کی کتاب کے لئے غیرت رکھتی ہے اور ان کی اکثریت محمد (صلی لیکر کے لئے غیرت رکھتی ہے۔اسلامی لٹریچر شائع کرنے اور اسے محفوظ رکھنے میں یہ قوم صف اول میں رہی ہے۔آج ہم اپنے مدارس میں بخاری اور مسلم وغیرہ احادیث کی جو کتابیں پڑھاتے ہیں وہ مصر کی چھپی ہوئی ہی ہیں۔اسلام کی نادر کتابیں مصر میں ہی چھپتی ہیں اور مصری قوم اسلام کے لئے مفید کام کرتی چلی آئی ہے۔اس قوم نے اپنی زبان کو بھلا کر عربی زبان کو اپنا لیا۔اپنی نسل کو فراموش کر کے یہ عربوں کا حصہ بن گئی اور آج دونوں قوموں میں کوئی فرق نہیں۔مصر میں عربی زبان، عربی تمدن اور عربی طریق رائج ہیں اور محمد عربی صلی الی یک کامذہب رائج ہے۔پس مصر کی تکلیف اور تباہی ہر مسلمان کے لئے دکھ کا موجب ہونی چاہئے۔خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو اور خواہ مذہبی طور پر اسے مصریوں سے کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں۔پھر مصر کے ساتھ ہی وہ مقدس سر زمین شروع ہو جاتی ہے جس کا ذرہ ذرہ ہمیں اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے۔نہر سویز کے ادھر آتے ہی آجکل کے سفر کے سامانوں کو مد نظر رکھتے ہوئے چند روز کی مسافت کے فاصلہ پر ہی وہ مقدس مقام ہے جہاں ہمارے آقا کا مبارک وجو د لیٹا ہے جس کی گلیوں میں محمد مصطفی صلی ال نیم کے پائے مبارک پڑا کرتے تھے۔جس کے مقبروں میں آپ کے والا وشید اخد اتعالیٰ کے فضل کے نیچے میٹھی نیند سو رہے ہیں۔اس دن کے انتظار میں کہ جب صور پھونکا جائے گا۔وہ لبیک کہتے ہوئے اپنے رب کے حضور حاضر ہو جائیں گے دو اڑھائی سو میل کے فاصلہ پر ہی وہ وادی ہے جس میں وہ گھر ہے۔جسے ہم خدا کا گھر کہتے ہیں اور جس کی طرف دن میں کم سے کم پانچ بار منہ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں اور جس کی زیارت اور حج کے لئے جاتے ہیں جو دین کے ستونوں میں سے ایک بڑا ستون ہے یہ مقدس مقام صرف چند سو میل کے فاصلہ پر ہے اور آجکل موٹروں اور ٹینکوں کی رفتار کے لحاظ سے چار پانچ دن کی مسافت سے زیادہ فاصلہ پر نہیں اور ان کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں۔وہاں جو حکومت ہے اس کے پاس نہ ٹینک ہیں نہ ہوائی جہاز اور نہ ہی حفاظت کا کوئی اور سامان۔کھلے دروازوں اسلام کا خزانہ پڑا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ دیواریں بھی نہیں ہیں اور جوں جوں دشمن ان مقامات کے قریب پہنچتا ہے۔ایک مسلمان کا دل لرز جاتا ہے،