خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 219

*1942 219 خطبات محمود ہوئی۔آخر ہزاروں نبی دنیا میں آئے ہیں۔ان ہزاروں نبیوں میں سے کب کوئی ایسا نبی آیا کہ اسے دنیوی لحاظ سے کوئی عزت حاصل تھی لیکن کب اس کا سلسلہ ختم ہوا اور وہ فاتح اور حکمران نہیں تھا۔یہی حال احمدیت کا ہے۔پس ایسی شکست خوردہ ذہنیت کے لوگ جنہوں نے مغربیت کے آگے اپنے ہتھیار ڈال رکھے ہیں وہ ہر گز کسی عہدہ کے قابل نہیں ہیں۔وہ بھگوڑے ہیں اور بھگوڑوں کو حکومت دے دینا اول درجہ کی حماقت اور نادانی ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھو۔یہ وہ بہادر لوگ تھے جو سمجھتے تھے کہ اسلام کی باگ کن لوگوں کے ہاتھ میں دی جانی چاہئے۔عکرمہ بن ابو جہل اسلام کے ایک بہت بڑے بہادر جرنیل گزرے ہیں۔ایک جنگ کے موقع پر اتفاقیہ طور پر ان کی فوج کے پاؤں اکھڑ گئے اور اس لشکر کے ساتھ وہ بھی بھاگ کھڑے ہوئے۔دنیا میں اگر کسی گندی اور سڑاند والی چیز سے اعلیٰ درجے کا ہیرا پیدا ہوا ہے تو وہ عکرمہ ہے۔ابو جہل جیسے خبیث اور ناپاک آدمی کے نطفہ سے عکرمہ ایسا اعلیٰ درجہ کا مومن پیدا ہوا ہے جس کی مثال دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔مگر وقت ہوتا ہے۔کسی وقت انسان کا قدم اکھڑ جاتا ہے۔اس وقت لشکر جو بھا گا تو حضرت عکرمہ بھی بھاگ کھڑے ہوئے اس میں کچھ غلطی ان کی بھی تھی۔حضرت ابو بکر نے حکم دیا تھا کہ جب تک فلاں لشکر نہ پہنچ جائے حملہ نہ کرنا مگر انہوں نے اس لشکر کے آنے سے پہلے ہی جہاد کے شوق میں حملہ کر دیا اور جب لشکر پسپا ہوا تو وہ بھی میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے۔یہ اسلام کے لئے ایک بہت بڑی ہتک کا موقع تھا کیونکہ اسلام نے کبھی ایسی شکست نہیں کھائی تھی۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس جب یہ معاملہ پہنچا تو آپ نے فیصلہ کیا کہ عکرمہ کو آئندہ کسی لشکر کی کمان سپرد نہ کی جائے اور نہ آئندہ وہ میرے سامنے کبھی مدینہ میں آئیں۔گویاوہ مقدس مقام جس کے ایک ایک انچ پر محمد صلی اللہ ظلم کے پاؤں پڑے تھے اور جس کو دیکھنے کے لئے مسلمان تڑپتے رہتے تھے اس کے متعلق عکرمہ کو حکم دے دیا گیا کہ وہ اس مقام میں آئندہ نہ آئیں چنانچہ عکرمہ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں پھر مدینہ میں نہیں آئے۔یہ مجھے معلوم نہیں کہ بعد میں انہیں آنے کی اجازت دی گئی تھی یا نہیں۔عکرمہ نے جس جس رنگ میں اپنی اس غلطی کا کفارہ کیا ہے اور سالہا سال ها الله سة