خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 203

$1942 203 خطبات محمود الله سة اور اگر دے تو کتنی دے۔کسی چور کو قاضی کے پاس لے جایا جاتا ہے اور وہ اسے ایک سال کی سزا دیتا ہے، کسی کو دو سال کی دیتا ہے، کسی کو چھ سال کی دیتا ہے اور کسی کو صرف ایک ماہ کی اور کسی کو صرف ضمانت لے کر ہی چھوڑ دیتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ایک ہی جرم میں فیصلے مختلف ہوتے ہیں۔اب اگر کوئی شخص اپنے چور کو خود ہی سزا دینا چاہے تو گو وہ واقعی چور ہو تو بھی اسے کیا معلوم کہ اسے اتنی سزاملنی چاہئے۔اگر خود ہی سزا دے دے تو اسے کس قانون کے مطابق پتہ لگے گا کہ کتنی سزا دینی چاہئے۔اس لئے اگر وہ خود سزا دے گا تو وہ نفس کا تابع ہو گا شریعت کا نہیں کیونکہ جو فیصلہ خدا تعالیٰ نے ایک اور کے ذمہ رکھا تھا اسے اس نے خود کر دیا حتی کہ جن امور میں شریعت نے سزا معتین اور مقرر کی ہے یعنی نہ بدلنے والی وہ بھی خود بخود دینے کی اجازت شریعت نے نہیں دی۔مثلاً مسلمانوں کے ایک طبقہ کا یہ عقیدہ ہے۔میں اس بحث میں اس وقت نہیں پڑتا کہ غلط ہے یا صحیح مگر بہر حال ایک طبقہ کا یہ عقیدہ ہے کہ ایسی عورت یا مرد جو شادی شدہ ہوں وہ اگر زنا کریں تو ان کی سزار حجم ہے یعنی پتھر مار مار کر انہیں مار دیا جائے۔ایک شخص رسول کریم صلی ال نیم کے پاس آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! اگر کوئی شادی شده مسلمان مرد یا عورت زنا کرے تو اس کی سزار جسم ہے یا نہیں۔آپ نے فرمایا ہاں ہے۔اس نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو اس حالت میں دیکھے تو کیا جائز ہے کہ وہ اس مرد کو مار دے۔آپ نے فرمایا نہیں۔اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ قاتل ہو گا۔یہ قاضی کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کوئی زانی رجم کے قابل ہے یا نہیں۔اگر کوئی شخص خودہی فیصلہ کر کے کسی کو قتل کرے گا تو خواہ مقتول واقعی مجرم ہو پھر بھی ہم قتل کرنے والے کو قاتل سمجھ کر اسے قتل کریں گے۔تو جہاں سزا معین ہے ایسی معین کہ اس میں تبدیلی کا امکان ہی نہیں۔اس میں بھی شریعت نے خود بخود فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ رسول کریم صلی ال نیلم نے یہاں تک فرمایا کہ اگر کوئی ایسی سزا بھی خود دے گا اور ایسے جرم کے نتیجہ میں بھی جس کی سز ا وا قعی قتل ہے خود کسی کو قتل کر دے گا تو اسے قاتل قرار دیا جائے گا کیونکہ سزا دینا اس کا حق نہ تھا۔تو ہر بات کے لئے اسلام نے قانون مقرر کئے ہیں مگر افسوس کہ ہم میں سے بعض لوگ ابھی ایسے ہیں جو جوش نفس یا غصہ کے ماتحت قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے جو کیا ہے