خطبات محمود (جلد 23) — Page 192
* 1942 192 خطبات محمود اس وقت بہر حال ایک احمدی کہلانے والے کو اپنی دکان بند کرنی چاہئے اور نماز باجماعت کے لئے مسجد میں جانا چاہئے۔اگر خطرہ ہو کہ دکانیں بند ہوئیں تو کوئی دشمن نقصان نہ پہنچا دے تو ایسی صورت میں باری باری پہرے مقرر ہو سکتے ہیں مگر یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ دکاندار اپنی دکانوں پر ہی بیٹھے رہیں اور نماز کے لئے مسجد میں نہ جائیں۔پہرہ ایک قومی فرض ہے اور جب کوئی شخص پہرے پر ہو تو وہ اپنے فرض کو ادا کرنے والا سمجھا جاتا ہے، نماز کا تارک نہیں سمجھا جاتا۔لیکن بغیر اس کے اگر کوئی شخص مسجد میں نہیں جاتا تو وہ نماز کا تارک ہے اور محلوں اور جگہوں کا تو میں کیا شکوہ کروں میں تو دیکھتا ہوں کہ مسجد مبارک جو اپنی برکات کے لحاظ سے مکہ اور مدینہ کی مساجد کے بعد تیسرے درجہ پر ہے اس کے زیر سایہ جو دکانیں ہیں ان میں سے بھی بعض نماز کے اوقات میں کھلی رہتی ہیں۔پس آج سے میں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کا فرض مقرر کرتا ہوں کہ وہ قادیان میں اس امر کی نگرانی رکھیں کہ نمازوں کے اوقات میں کوئی دکان کھلی نہ رہے۔میں اس کے بعد ان لوگوں کو مذ ہی مجرم سمجھوں گا جو نماز باجماعت ادا نہیں کریں گے اور انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو قومی مجرم سمجھوں گا کہ انہوں نے نگرانی کا فرض ادا نہیں کیا۔ہم پر اس شخص کی کوئی ذمہ داری نہیں ہو سکتی جو بے نماز ہے اور ایسے شخص کا یہی علاج ہے کہ ہم اس کے احمدیت سے خارج ہونے کا اعلان کر دیں گے مگر جو منتظم ہیں وہ بھی مجرم سمجھے جائیں گے اگر انہوں نے لوگوں کو نماز باجماعت کے لئے آمادہ نہ کیا۔وہ صرف یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ ہم نے لوگوں سے کہہ دیا تھا۔اگر لوگ نماز نہ پڑھیں تو ہم کیا کریں۔خدا نے ان کو طاقت دی ہے اور انہیں ایسے سامان عطا کئے ہیں جن سے کام لے کر وہ اپنی بات لوگوں سے منوا سکتے ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ لوگ ان کی بات نہ ما نہیں۔وہ انہیں نماز باجماعت کے لئے مجبور کر سکتے ہیں اور اگر وہ مجبور نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے اخراج از جماعت کی رپورٹ کر سکتے اور مجھے ان کے حالات سے اطلاع دے سکتے ہیں۔بہر حال کوئی نہ کوئی طریق ہونا چاہئے جس سے ان لوگوں کا پتہ لگ سکے جو بظاہر ہمارے ساتھ ہیں مگر در حقیقت ہمارے ساتھ نہیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ایسے لوگ ہمارے ساتھ لٹکتے چلے جائیں اور اپنی اصلاح بھی نہ کریں۔اس کے نتیجہ میں اور لوگوں پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے اور وہ بھی