خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 170

$1942 170 خطبات محمود کرنی بالکل مشکل ہو جائے گی کجا یہ کہ وہ سال بھر کے لئے غلہ جمع کر سکیں۔اس قسم کے کئی لوگ ہیں جو مجھے درخواستیں بھجوا رہے ہیں کہ ہمارے لئے کوئی انتظام کیا جائے اور بعض نے تو یہ لکھا ہے کہ اگر ہمیں قرض دیا جا سکے تو قرض ہی دے دیا جائے۔ہم بعد میں روپیہ واپس کر دیں گے حالانکہ اُن میں سے بعض بے شک ایسے ہیں جو بعد میں قرض ادا کر سکتے ہیں مگر بعض ایسے ہیں جن کی نیت ہی نیت ہے انہیں توفیق نہیں کہ وہ قرض اتار سکیں۔وہ منہ سے تو کہتے ہیں کہ اگر ہمیں قرض مل جائے تو ہم بعد میں ادا کر دیں گے مگر یا تو وہ اپنے نفس پر بہت زیادہ یقین رکھتے ہیں جو نہیں رکھنا چاہئے اور یا ان کا تقویٰ اتنا کامل نہیں کہ وہ وعدے کی اہمیت کو سمجھیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ اس وقت تو قرض مل جائے بعد میں ادانہ ہو سکا تو معاف کرالیں گے ورنہ وہ قرض لے کر ادا کر ہی نہیں سکتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہیں ضرورت ہے مگر ضرورت کے پورا کرنے کا کوئی اور طریق ہونا چاہئے۔وہ طریق جسے وہ اختیار ہی نہیں کر سکتے ان کے لئے کس طرح جاری کیا جا سکتا ہے۔بے شک اس بات کا امکان ہے جیسا کہ گور نمنٹ کو شش کر رہی ہے کہ آئندہ ساونی میں بہت سی زمین کاشت کرا دے اور اس کے نتیجہ مین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکئی اور چاول وغیرہ بکثرت ہو جائے اور ستمبر اکتوبر میں گندم کا بھاؤ گر جائے مگر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اس دفعہ گندم کی پیداوار زیادہ نہیں ہوئی رقبہ زیر کاشت کم تھا اور پھر گندم کی جو پیداوار ہوئی۔اس کے زیادہ حصہ کو بارش کی وجہ سے نقصان پہنچ گیا۔اس وجہ سے اس سال گندم کی ہندوستان میں جو پیداوار ہوئی ہے وہ گزشتہ سال سے کئی لاکھ ٹن کم ہے اور پچھلے سال سے غلہ کے کھتے بھی بہت تھوڑے ہیں۔گورنمنٹ کا اعلان ہے کہ گزشتہ سال یو۔پی میں دو ہزار گندم کا کھیتہ 2 تھا جو سار اخرچ ہو گیا اور اب صرف تیں رکھتے باقی رہ گئے ہیں۔اگر خدانخواستہ قحط پڑ جائے تو دسمبر سے اپریل تک کے ایام گزار نے کتنے مشکل ہو جائیں گے۔تو یہ غرباء جو ہیں ان کی اس صورت میں کیا امداد ہو سکتی ہے ؟ آخر یہ تو لوگوں نے کرنا نہیں کہ غلہ اتنازیادہ جمع کر لیں کہ جب ضرورت ہو اس وقت اپنا غلہ غرباء کو دے دیں۔اگر اس وقت غلہ مہنگا ہو جائے تو یہ تو ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ غرباء کے لئے روپیہ دے دیں لیکن اگر غلہ ملے ہی نہ تو روپیہ کیا کام دے سکے گا۔پس اس صورت حالات کا ایک ہی علاج ہو