خطبات محمود (جلد 23) — Page 15
* 1942 15 خطبات محمود اندر یہ آگ نہ ہو کہ جب تک دنیا کے کونہ کو نہ میں میں خدا تعالیٰ کا پیغام نہ پہنچالوں گا آرام کا سانس نہیں لوں گا۔اس کے مقابلہ میں وہ شخص جو بہت تھوڑی باتیں کر سکتا ہے۔جو لمبی تقریریں نہیں کر سکتا مگر اس کے دل میں ہر وقت یہ آگ سلگتی رہتی ہے کہ میں خدا تعالیٰ کا پیغام اس کی بھولی بھٹکی مخلوق تک پہنچاؤں اور وہ رات اور دن کرب اور بے اطمینانی کے ساتھ گزارتا ہے اور کہتا ہے کہ جب تک میں اپنے بھائیوں کو خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے وصال کی طرف نہ لے آؤں گا مجھے امن اور چین حاصل نہیں ہو گا۔یقیناً خدا تعالیٰ کے حضور زیادہ بلند مقام رکھے گا اور یقیناً اس کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ خدا تعالیٰ کو دوسرے کی اعلیٰ درجہ کی تقریروں سے زیادہ پسند آئیں گے کیونکہ اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔پہلے شخص کی تقریر کے پیچھے جو نیت تھی وہ ایسی اعلیٰ نہیں تھی مگر اس کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے پیچھے جو نیت تھی وہ بہت اعلیٰ تھی۔اسی طرح قربانی کے متعلق قرآن کریم نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خون اور گوشت کو نہیں دیکھتا بلکہ قربانی کرنے والے کی نیت کو دیکھتا ہے۔ایک امیر آدمی آسانی کے ساتھ سو اونٹ یا سوڈ نے خدا تعالیٰ کی راہ میں ذبح کر سکتا ہے لیکن ایک غریب آدمی جو سال بھر قربانی کے لئے پیسے جمع کرتا رہتا ہے اور جس کا ایک ایک دن اس حسرت سے گزرتا ہے کہ کاش میرے پاس اتنی رقم جمع ہو جائے کہ میں ایک دفعہ عید کے موقع پر قربانی کر کے اس کا کچھ گوشت خدا کی راہ میں تقسیم کر دوں۔اور کچھ گوشت اپنے دوستوں کو تحفہ پیش کروں وہ اگر سال بھر کی محنت اور تگ و دو کے بعد ایک معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دنبی قربانی کرتا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ اس کی معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دُنبی کو رڈ کر دے گا اور اس امیر کے موٹے تازے دُنبوں کو قبول کرے گا۔اگر خدا تعالیٰ انسانی عمل پر فیصلہ کرتا تو یقیناً اس امیر کے موٹے تازے دُنبے قبول کر لئے جاتے اور اس غریب کی معمولی سی بکری یا چھوٹی سی د نبی رڈ کر دی جاتی مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ انسانی اعمال پر نہیں ہو گا بلکہ وہ فرماتا ہے يَنَالُهُ التَّقْوى منكم خدا تعالیٰ کے حضور قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا اگر اس کے پاس گوشت اور خون پہنچا کرتا تو وہ اچھا گوشت پسند کر لیتا اور تب وہ ان قربانیوں کو قبول کر لیتا جن میں بہت زیادہ خون بہایا گیا ہو۔مگر وہ فرماتا ہے ہمارے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں پہنچتی۔