خطبات محمود (جلد 23) — Page 143
خطبات محمود 143 * 1942 پس اجتماعی دعاؤں کے نتیجہ میں جہاں تک عبادت کا تعلق ہے۔کمزور انسان کو بھی دعا کا ثواب مل جاتا ہے حالانکہ اس کی دعا ثواب والی نہیں ہوتی بلکہ لولی لنگڑی اور ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے مگر چونکہ وہ دعاسب دعاؤں کے ساتھ پیش ہوتی ہے۔اس لئے اس پر بھی ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔غرض دعا کا یہ ثوابی پہلو نہایت اہمیت رکھنے والی چیز ہے اور یہ قدرتی بات ہے کہ جس شخص کی ایک دعا قبول ہو کر اسے ثواب مل جائے گالا زمآوہ اور دعا کرے گا اور پھر اور ثواب حاصل کرے گا۔اس طرح وہ اپنے اخلاص اور ایمان میں ترقی کرتا چلا جائے گا کیونکہ جب خدا کسی کو ثواب دیتا ہے تو اس کا ایک حصہ ایمان کی صورت میں دیتا ہے اور جسے بار بار ثواب ملتا رہے اس کا ایمان آہستہ آہستہ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔پس دوسروں کے ساتھ مل کر دعا کرنے کا قوم کو بھی فائدہ پہنچتا ہے اور خود انسان کی اپنی ذات کو بھی فائدہ پہنچتا ہے اور جو شخص ایسا کرے گا، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بدلہ ملے گا اس کا کچھ حصہ ایمان کی زیادتی کی شکل میں ملے گا اور اس طرح اس کے ایمان میں بھی تازگی اور قوت پیدا ہو جائے گی۔پس نہ صرف قوم اس کی دعا سے فائدہ اٹھائے گی بلکہ وہ بھی ایمان کی زیادتی کی شکل میں اس سے فائدہ اٹھائے گا۔غرض اجتماعی دعائیں اپنے اندر خاص رنگ اور خاص حیثیت رکھتی ہیں جسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انفرادی دعا اعلیٰ ترین مخلصوں کے لئے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جب وہ دنیا سے الگ ہو کر اکیلے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کا جو ناز اور پیار اپنے رب سے ہوتا ہے۔اس کی مثال مجلس کی دعاؤں میں نہیں مل سکتی مگر مجلسی دعاؤں میں کمزور اور ناتوان اور تھوڑے ایمان والوں کے دلوں میں مضبوط ایمان رکھنے والے بھائیوں کو دیکھ کر جو جوش پیدا ہوتا ہے وہ جوش اور وہ درد انہیں انفرادی دعاؤں میں میسر نہیں آسکتا۔پس مجلسی دعائیں اپنی عام حیثیت اور وسعت کے لحاظ سے مفید ہیں اور انفرادی دعائیں ایمان اور اخلاص کی شدت کے لحاظ سے مفید ہیں اور دونوں ہی اپنی جگہ نہایت کارآمد اور مفید چیزیں ہیں۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس نازک موقع پر میں نے جو تحریک کی ہوئی ہے