خطبات محمود (جلد 23) — Page 142
* 1942 142 خطبات محمود دعاؤں کو قبولیت کے قابل بنا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ دوسروں کی پر اخلاص دعاؤں کی وجہ سے ان کی دعاؤں کو بھی قبول کر لیتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے تاجر بعض دفعہ اچھی چیز کے ساتھ بعض بُری چیزیں ملا کر رکھ دیتے ہیں اور جب اچھی چیز فروخت ہوتی ہے تو اس کے ساتھ بُری چیز بھی فروخت ہو جاتی ہے۔ولایت میں چونکہ قیمتیں زیادہ مل جاتی ہیں اس لئے وہاں تو یہ قاعدہ ہے کہ تاجر اچھی چیزوں کو الگ رکھ دیتے ہیں اور ناقص چیزوں کو الگ۔مگر ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ تاجر اچھی اور بری دونوں چیزیں ملا دیتے ہیں مثلا دس سنگترے اچھے ہوئے تو دوناقص سنگترے ان میں ملا دیتے ہیں۔اس طرح گاہک جب سنگترے خرید تا ہے تو اسے تاجر اچھے اور بُرے دونوں سنگترے ملا کر دے دیتا ہے اور گاہک بھی کہتا ہے کہ کیا ہو آبارہ میں سے دو ہی خراب ہیں یا سولہ میں سے دو سنگترے جو ناقص ہیں باقی تو اچھے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حضور جب اکٹھی دعائیں پہنچتی ہیں تو ان میں سے کچھ مخلصانہ ہوتی ہیں کچھ کمزور ہوتی ہیں اور کچھ بالکل خراب اور رڈی ہوتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان سب کو قبول کر لیتا ہے اور کہتا ہے یہ مشترک سودا ہے۔اس میں اگر کچھ ناقص دعائیں آگئی ہیں تو کوئی حرج کی بات نہیں۔پس جو دعائیں متحدہ طور پر مانگی جائیں۔ان کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر ان میں کوئی خراب اور ناقص دعائیں ہوں تو وہ بھی قبول کر لی جاتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے یہ ناقص دعائیں اچھی دعاؤں کے ساتھ مل کر آئی ہیں اور چونکہ سودا مشترک طور پر پیش ہو تا ہے اور خدا تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔اس لئے وہ صرف مخلص لوگوں کی دعائیں ہی قبول نہیں کرتا بلکہ کمزور لوگوں کی دعائیں بھی قبول کر لیتا ہے۔اس طرح جہاں دعا کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب مل جاتا ہے وہاں اس کی دعا سے قوم کو بھی فائدہ پہنچ جاتا ہے۔گویا متحدہ دعائیں ایک طرف تو کمزور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ثواب بہم پہنچاتی چلی جاتی ہیں اور دوسری طرف ان کی دعاؤں سے قوم ترقی کرتی ہے کیونکہ جہاں تک دعا کا انسان کی ذات سے تعلق ہے۔وہ ایک عبادت ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ویسا ہی ثواب ملتا ہے جیسے کسی اور عبادت پر اس کی طرف سے ثواب حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح جب قوم اور ملک کے فائدہ کے لئے دعا کی جاتی ہے تو لازماً قوم اور ملک کو فائدہ پہنچتا ہے۔