خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 12

* 1942 12 خطبات محمود کہ شاید خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے کا مجھے بھی موقع میسر آجائے مگر افسوس میں شہید نہ ہوا اور آج میں اپنے بستر پر جان دے رہا ہوں حالانکہ خدا جانتا ہے میں نے اپنی طرف سے اس پیالہ کے پینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔اور میں نے پورا زور لگایا کہ کسی طرح شہادت کا مرتبہ مجھے نصیب ہو جائے مگر افسوس میں اس سے محروم رہا۔پھر اسے کہنے لگے میرے سینہ پر سے کر نہ تو اٹھاؤ اور بتاؤ کہ کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں۔اس نے کہا کوئی جگہ نہیں۔سب جگہ تلوار کے زخموں کے نشانات پائے جاتے ہیں۔پھر کہنے لگے اچھا اب میری پیٹھ پر سے کر نہ اٹھاؤ اور دیکھو کہ کیا میری پیٹھ پر بھی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں۔اس نے پیٹھ پر سے کر نہ اٹھایا اور دیکھ کر کہنے لگا کہ پیٹھ پر بھی ہر جگہ تلوار کے زخموں کے نشانات پائے جاتے ہیں۔پھر انہوں نے کہا اب میرے پائنچے اٹھا کر دیکھو کہ کیا میری لاتوں پر کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں۔اس نے دیکھا اور کہا کہ کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں۔نشانات دکھانے کے بعد حضرت خالد کہنے لگے۔تم دیکھ سکتے ہو کہ میں نے کس طرح اپنے آپ کو بے پرواہ ہو کر جنگ میں ڈالا کہ آج میرے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جس پر تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں مگر وہ لوگ جو میرے پیچھے آئے تھے وہ تو جام شہادت پی کر اپنے رب کے پاس چلے گئے اور میں بستر پر تڑپ تڑپ کر جان دے رہا ہوں۔تو دیکھو۔ایک قربانیاں وہ ہوتی ہیں جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہو تیں بلکہ دشمن کے قبضہ میں ہوتی ہیں۔مگر ایک قربانیاں وہ ہوتی ہیں جو انسان کے اپنے اختیار میں ہوتی ہیں۔جو قربانیاں انسان کے اپنے اختیار میں ہوتی ہیں در حقیقت انہی کے ذریعہ یہ پتہ چلتا ہے کہ انسان وہ قربانیاں بھی کر سکتا ہے یا نہیں جو اس کے اختیار سے باہر ہیں۔ورنہ انسان اپنے دل میں خواہشیں تو کیا ہی کرتا ہے تو اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّات۔رسول کریم صلی الی ایم نے فرمایا انسانی عمل نیتوں کے مطابق ہوتا ہے۔دیکھو خالد کی نیت یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جائیں مگر عمل نیت کے مطابق نہ ہو سکا۔یعنی وہ شہید نہ ہوئے مگر کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے