خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 115

* 1942 115 خطبات محمود ها الله ہوئے ہوں گے مگر پھر وہ بچہ کیسا ظالم اور بر اثابت ہوا۔تو انسان بسا اوقات دعا کرتے ہوئے جوش میں آکر کہہ دیتا ہے کہ خدایا مجھے بچہ مل جائے اور اس کی یہ دعا ناقص ہوتی ہے لیکن اگر وہ قرآن اور رسول کریم صلی علیم کی بتائی ہوئی دعاؤں کو مد نظر رکھے گا تو وہ کہے گا کہ الہی مجھے نیک اور صالح اولا د عطا ہو۔اسی طرح بعض دفعہ انسان غریب ہوتا ہے وہ جوش میں آتا ہے اور دعا کرتے ہوئے کہتا ہے یا اللہ مجھے مال دے لیکن مال تو چوری کا بھی ہو سکتا ہے۔ممکن ہے اس کا ایمان خراب ہو جائے اور وہ چور اور ڈاکو بن جائے۔اس طرح بھی وہ مالدار تو ہو جائے گا مگر ایمان جاتا رہے گا لیکن اگر وہ قرآن اور رسول کریم صلی کم کی بتائی ہوئی دعاؤں کی روشنی میں اللہ تعالیٰ سے مال مانگے گا تو وہ کہے گا۔الہی مجھے حلال اور طیب مال دے۔پھر وہ خالی یہی نہیں کہے گا کہ مجھے ایسا مال دے جو حلال اور طیب ہو بلکہ قرآن کریم اور رسول کریم صلی للی علم کی بتائی ہوئی دعاؤں کی روشنی میں وہ یہ کہے گا کہ الہی مجھے ایسا حلال اور طیب مال دے جس سے میں فائدہ بھی اٹھا سکوں۔اگر اسے حلال اور طیب مال تو ملے مگر اسی دن مر جائے تو اس مال کا اسے کیا فائدہ ہوا۔تو انسان جب اپنی عقل سے دعا مانگے تو اس سے کئی قسم کی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں لیکن اگر وہ خدا اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی دعائیں مانگے تو چونکہ وہ کامل ہوتی ہیں اس لئے بہت سے ایسے خطرات جو اس دعا کے پورا ہونے کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ان کا بھی ساتھ ہی علاج ہو جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے ایک جامع دعا جور سول کریم صلی علیکم کثرت سے مانگا کرتے تھے اور دوسروں کو بھی بتایا کرتے تھے اور مسلمانوں میں بھی عام طور پر رائج ہے اور جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی وحی کے ذریعہ نازل ہوئی ہے۔یہ ہے رَبَّنَا اتنا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 4 خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کی وحی میں بہت سی دعائیں ہیں مگر یہ ایسی دعا ہے جسے رسول کریم صلی الم نے خصوصیت سے چُن کر صحابہ کو بتایا اور خود بھی اسے کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔یہ بظاہر بہت چھوٹی سی دعا ہے لیکن ہر قسم کی انسانی ضرورتوں پر حاوی ہے۔انسان کہتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً سة