خطبات محمود (جلد 22) — Page 95
$1941 95 خطبات محمود وجہ سے سب مسلمانوں کو نوکری ملنا مشکل ہو گئی۔گویا ان بد دیانتوں نے صرف اپنا ہی رزق بند نہ کیا بلکہ دوسرے مسلمانوں کے رزق کو بھی بند کیا۔لوگوں میں یہ عام رواج ہوتا ہے کہ جب انہیں کسی شخص سے نقصان پہنچتا ہے تو وہ اس کی تمام قوم کا نام لے کر کہتے ہیں کہ وہ سب قوم ایسی ہی ہے۔ہم اپنے کاموں میں بھی دیکھتے ہیں کہ جہاں کسی احمدی سے کوئی غفلت ہوتی ہے۔سب لوگ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ۔بس جی دیکھ لیا۔احمدی ایسے ایسے ہوتے ہیں۔بلکہ خود بعض دفعہ احمدی بھی اس قسم کے الفاظ اپنی زبان سے نکال دیتے ہیں۔اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایسے مقامات میں بعض کار خانے دار اوروں کو ملازم رکھ لیتے ہیں مگر احمدیوں کو نہیں رکھتے اور کہتے ہیں کہ احمدی اچھے نہیں ہوتے۔اب کوئی احمدی ایسا ہوا ہو گا جس نے اپنا برا نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کیا ہو گا مگر اس ایک کی وجہ سے بدنام ساری قوم ہوئی۔لیکن اگر اس میں محنت کی عادت ہوتی اگر وہ دیانت اور امانت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہوتا تو نہ صرف وہ اپنی روٹی کما سکتا بلکہ کئی دوسرے احمدیوں کی روٹی کا بھی انتظام ہو جاتا۔کیونکہ لوگ کہتے یہ احمدی تھا جس نے بڑی دیانتداری سے کام کیا اب اور کاموں پر بھی ہم احمدیوں کو ہی مقرر کریں گے۔تاکہ ہمارے کام خوش اسلوبی سے ہوتے رہیں۔غرض اگر ایک آدمی اچھا کام کرتا ہے تو دوسرے کی روٹی کا دروازہ بھی کھل جاتا ہے اور اگر ایک آدمی فرائض کی ادائیگی میں غفلت اور کوتاہی سے کام لیتا ہے تو اور لوگوں کی روٹی بھی بند ہو جاتی ہے۔تو اخلاق میں سے بعض بظاہر انسان کی اپنی ذات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں لیکن در حقیقت ان کا تعلق تمام قوم کے ساتھ ہوتا ہے جیسے جھوٹ ہے یا سستی ہے۔یا غفلت ہے یا دھوکا اور فریب ہے۔یہ ساری بدیاں ایسی ہیں کہ جن کے متعلق بظاہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ ان کا صرف اس کی ذات کے ساتھ تعلق ہے حالانکہ ویسے ہی قوم کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں جیسے ان کا تعلق اس کی ذات کے ساتھ ہوتا ہے وہ