خطبات محمود (جلد 22) — Page 8
$1941 8 خطبات محمود پیغامیوں کا ہمارے دشمنوں کو مدد دینے سے انکار بھی دراصل اسی قسم کا ہے۔وہ حیلے بنا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انجمن کے روپیہ سے ہم نے کوئی مدد نہیں دی۔وہ ید، بکر سے چندہ کر کے دے دیتے ہیں۔جب مستریوں نے فتنہ انگیزی شروع کی تو اس وقت بھی ان لوگوں نے ان کی مدد کی۔مگر ساتھ ہی ساتھ انکار بھی کرتے رہے۔لیکن ان کی پارٹی کے بغداد کے سیکرٹری نے ہمیں لکھ کر دیا کہ مجھے اپنے سنٹر سے ان لوگوں کے ٹریکٹ اور اشتہار وغیرہ تقسیم کے لئے آتے رہے ہیں۔اب بھی انہوں نے ہمارے مخالفوں کی مدد کی ہے مگر اس سے انکار کرتے ہیں اور انکار سے ان کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے انجمن کے روپیہ سے روپیہ سے ان کی مدد نہیں کی مگر کرتے ضرور ہیں اور وہ اس طرح کہ چھوٹی سی جماعت ہے مسجد میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں کو تحریک کر دی اور ان سے روپیہ سے روپیہ لے کر دے دیا تو یہ لوگ اس قسم کے حیلے بنا بنا کر ہمارے دشمنوں کو مدد دیتے ہیں جو ہم پر ناواجب حملے کرتے ہیں مگر ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔ان لوگوں میں سے ایک مالدار خاندان کا ایک فرد مصری صاحب کے فتنہ کے شروع میں یہاں آیا اور اس نے مصری صاحب کو ایک معقول رقم دی کہ ان لوگوں کا خوب مقابلہ کرو ہم تمہاری مدد کرتے رہیں گے۔پھر مصری صاحب کے ساتھی مثلاً حکیم عبد العزیز اور عبد الرب پٹھان وغیرہ بھی اس خاندان کے پاس جاتے رہے اور ان سے مدد لیتے رہے۔مگر خدا تعالیٰ کی قدرت کہ اسی سال اس خاندان کا ایک نوجوان پھر یہاں آیا اور مجھے کہا کہ ہمیں فلاں بڑا کام مل سکتا ہے آپ ہماری سفارش کر دیں۔کوئی اور ہوتا تو ان کو جتاتا اور کہتا کہ تم تو ہماری اس طرح مخالفت کرتے رہے ہو مگر مومن کا بدلہ اور رنگ کا ہوتا ہے اور وہ یہی کہ جو لوگ سالہا سال گالیاں دلواتے رہے وہ ان کے بھلے کا کام کرے۔چنانچہ میں نے ان کی سفارش کی اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے وہی بدلہ لیا جو محمد صلی اللی علم کی سنت کے مطابق ہے ہمیں ان لوگوں سے کوئی دشمنی نہیں بلکہ خیر خواہی ہے۔بے شک وہ دشمنی میں انتہاء۔بڑھے ہوئے ہیں مگر اصل دشمنی چند ائمہ کو ہے باقیوں میں ان کی دشمنی کا انعکاس