خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 677 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 677

* 1941 677 خطبات محمود میں بہت ہی عجز اور انکسار کے ساتھ دعائیں کرو اور اپنے اندر خاص تبدیلی پیدا کرو۔نمازوں میں با قاعدگی کے ساتھ جاؤ اور ہمیشہ نماز باجماعت پڑھنے کی کوشش کرو۔اگر کوئی شخص ان ایام میں بھی نماز باجماعت پڑھنے میں سستی کرتا ہے تو یہ کتنے افسوس مقام ہے۔آجکل تو وہ دن ہیں کہ ہر شخص کے لئے موقع ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہے طرف توجہ کر کے ولی اللہ بن جائے۔یوں تو ولایت کا دروازہ ہمیشہ ہی کھلا ہوتا مگر تلخیوں کے اوقات میں ولایت کا دروازہ اور زیادہ کھل جاتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو آرام کے وقت ماں بغیر کسی قسم کے خدشہ کے ڈور چلی جاتی ہے۔کئی ماں باپ یورپ میں اپنے بچوں کو تعلیم وغیرہ کے لئے بھیج دیتے ہیں۔ہمارے ملک کے لوگ آرام کے دنوں میں حج کے لئے چلے جاتے ہیں مگر جس وقت بچہ تکلیف میں مبتلا ہو تو ماں اس کے سرہانہ سے نہیں اٹھتی۔یہی حال اللہ تعالیٰ کا ہے جب اس کا کوئی بندہ مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اس کے پاس آ بیٹھتا ہے۔پس در حقیقت وہی موقع اللہ تعالیٰ کے وصال کا ہوتا ہے۔جو لوگ ہوشیار اور ذہین ہوتے ہیں وہ اس موقع فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور جب خدا اُن کے قریب آ جاتا ہے تو جس طرح پنجابی جیھا مارنا ” کہتے ہیں وہ خد تعالیٰ کو جتھا مار لیتے ہیں اور اس کے دامن کو ایسا مضبوطی سے پکڑتے ہیں کہ پھر اسے مرتے دم تک نہیں چھوڑتے۔آجکل کے ایام بھی ایسے ہی ہیں آج بھی مشکلات کا زمانہ ہے اور خدا تعالیٰ تمہارے قریب آ رہا ہے۔پس وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مضبوطی سے بھینچ لو اور اسے کہو کہ اب تو تو مل گیا ہے اب ہم تجھے کبھی جانے نہیں دیں گے۔اس کے بعد میں ایک اور امر کی طرف دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔نے خود تو نہیں دیکھا مگر “الفضل ” میں میں نے ایک نہایت ہی ناپسندیدہ بات دیکھی ہے جو مولوی محمد علی صاحب کی طرف منسوب کر کے لکھی گئی ہے۔میں جہاں تک ہو سکے دوسروں کی سخت کلامی برداشت کیا کرتا ہوں۔اپنی نسبت دعویٰ کرنا تو فضول ہوتا ہے مگر آئندہ تاریخ یقینا اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ میں نے