خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 676 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 676

* 1941 676 خطبات محمود علیہ تو خدا تعالیٰ ایک سال میں ہی بعض دفعہ سو سو خواہیں دکھا دیتا ہے یا الہام کر دیتا ہے یا کشوف ظاہر کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا ہم سے یہ سلوک حضرت مسیح موعود الصلوة و السلام کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔میں فطرتاً اور طبعاً دوسروں کو اپنی خواہیں سنانے کا عادی نہیں مگر اب جنگ کے حالات کی وجہ سے مجبوراً مجھے ان خوابوں کو بیان کرنا پڑتا ہے ورنہ ساری عمر ہی میں نے اپنی خواہیں دوسروں کو بہت کم سنائی ہیں۔بعض دفعہ اپنی کسی بیوی یا دوست کو میں خواب بتا دیتا ہوں اور بیسیوں دفعہ میں اپنی بیویوں اور اپنے دوستوں کو بھی خواہیں نہیں بتاتا۔میں سمجھتا ہوں یہ ماموروں کا کام ہوا کرتا ہے کہ وہ اپنی خواہیں دوسروں کو سنائیں۔پس مجھے جو خوابیں آتی ہیں میں انہیں خدا تعالیٰ کا ایک راز سمجھتا ہوں جو میری ذات تک محدود ہوتا ہے اور میں اسے بالعموم اپنی ذات تک ہی محدود رکھتا ہوں۔مگر اس زمانہ میں مجبوری پیدا ہو گئی ہے کہ جماعت کے دوستوں کو بیدار کرنے کے لئے مجھے اپنی خواہیں بیان کرنی پڑتی ہیں ورنہ طبعاً میں اپنی خواہیں بیان کرنے کا عادی نہیں۔غرض میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان نازک ایام میں وہ خصوصیت - دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان فتنوں اور مصائب کی تلخی کو ساری دنیا کے لئے ہی کم کرے اور ہماری جماعت کو خصوصیت سے ان تلخیوں سے محفوظ رکھے۔پھر یہ بھی دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ اس جنگ کو اسلام اور احمدیت کے لئے مفید ثابت کرے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مومن بغیر تلخیوں کے اپنے کمال کو نہیں پہنچتا مگر خدا تعالیٰ نے جہاں یہ کہا ہے کہ مومن تلخیوں کے بغیر روحانیت میں ترقی نہیں کر سکتا وہاں اس نے میں یہ دعا مانگنے کے لئے بھی کہا ہے کہ ایسی تلخیاں ہم پر وارد نہ ہوں جو ہماری حدِ برداشت سے باہر ہوں۔چنانچہ وہ فرماتا ہے تم یہ دعا کیا کرورَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا 2 پس بے شک یہ صحیح ہے کہ تلخیوں کے بغیر مومن اپنے ایمان میں کامل نہیں سکتا مگر جس خدا نے یہ کہا ہے اسی خدا نے یہ بھی کہا ہے کہ تم یہ دعائیں کیا کرو کہ الہی ہم پر ایسی تلخیاں نہ آئیں جو ہماری طاقت برداشت سے باہر ہوں۔پس ان ایام