خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 662 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 662

خطبات محمود 662 * 1941 اگر اس کا نام مہمانی ہے تو وہ پہلے ہمیں اس کا تجربہ کرا دیں لیکن ہم اگر ایسا تجربہ کرائیں تو وہ شور مچانے لگ جائیں۔مجھے مولوی صاحب کا جواب دینے کی تو کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ میں پہلے جواب دے چکا ہوا ہوں۔مگر پھر بھی میں نے دے دیا ہے تا ان کو حسرت نہ رہے کہ جواب نہیں دیا۔اگر وہ جلسہ کے موقع پر آکر تقریریں کرنا چاہتے ہیں تو اس کی صورت یہی ہے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔گو اب ریٹ بہت بڑھ گئے ہیں اور ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔بعض قیمتیں تو ڈیوڑھی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں اور اس طرح پہلے تین ہزار کا مطالبہ تھا اب % 4 ہزار کا ہونا مگر میں پہلے ہی مطالبہ پر قائم ہوں۔وہ تین ہزار روپیہ یومیہ کے حساب سے ہی چاہئے چھ ہزار روپیہ بیت المال میں بھیج دیں اور ہم جلسہ کے دو دن بڑھا دیں گے اور بھی کہہ دیں گے کہ جو دوست بھی ٹھہر سکیں ضرور ٹھہر جائیں اور اگر وہ دوسرے دنوں میں آنا چاہیں تو پھر کوئی خرچ ان سے نہ لیا جائے گا۔ہم قادیان کے دوستوں کو جمع کر دیں گے اور باہر بھی اعلان کر دیں گے کہ جو دوست آنا چاہیں یا آ ہمیں وہ آجائیں۔مولوی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے جلسہ پر بھی اتنے آدمی نہیں وتے جتنے یہاں عام جمعہ کے دن جمع ہوتے ہیں۔چنانچہ اس وقت بھی جمعہ کے لئے جتنے لوگ بیٹھے ہیں اتنے کبھی بھی انہیں اپنے جلسہ میں نصیب نہیں ہوتے۔اگر میں ان کے جلسہ پر جاؤں یا میرا نمائندہ جائے۔فرض کرو مولوی ابو العطاء صاحب جائیں تو انہیں وہاں اتنے سامعین تو نہیں مل سکتے جتنے یہاں جمعہ میں بیٹھے ہیں۔پس انہیں اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور حق تو یہ ہے کہ باتیں ایک دوسرے کی سننے والے سنتے اور پہنچانے والے پہنچاتے ہی رہتے ہیں اس انتظام کی بھی کوئی خاص ضرورت نہ تھی یہ تو ہم نے ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے بطور احسان دعوت دی تھی مگر انہوں نے اس احسان کی قدر نہ کی اور غیر معقول مطالبات شروع کر دیئے۔پھر ایک اور بات بھی میری تجویز میں ان کے فائدہ کی ہے۔وہ کہا کرتے ہیں کہ قادیان میں میرے قول کے مطابق (میرے اس قول کے مطابق جو