خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 635

* 1941 635 خطبات محمود اپنے چندوں کو نہیں بدلا تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ اب بدل دیں گے اور انہی لوگوں کی لسٹ میں آنے کی کوشش کریں گے جو ہر سال پہلے سال سے اضافہ کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔مگر بعض لوگوں نے اس کے مفہوم کے سمجھنے میں سخت غلطی کی ہے ہے اور انہوں نے اس قانون سے ایسے رنگ میں فائدہ اٹھانا چاہا ہے جو نہیں۔یعنی انہوں نے اتنے الفاظ کو تو لے لیا کہ ہر دفعہ چندہ بڑھا دیا جائے انہوں نے اس امر کو مد نظر نہیں رکھا کہ ان کا چندہ قربانی والا چندہ ہے یا نہیں۔مثلاً ہماری جماعت میں بعض ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کی آمد سو یا ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار ہے مگر انہوں نے پہلے سال کا چندہ پانچ روپیہ دے دیا ہے۔دوسرے سال انہوں نے پانچ روپے ایک آنہ دے دیا۔تیسرے سال انہوں نے پانچ روپے دو آنے دے دیئے اور چوتھے سال پانچ روپے تین آنے دے دیئے۔اب بظاہر تو وہ بھی سابقون میں ہی شامل ہیں اور دسویں سال پانچ روپے نو آنے چندہ دے کر وہ سَابِقُونَ کی اس ظاہری لسٹ میں شامل ہو جائیں گے جو ہم تیار کریں گے۔مگر اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ان کی قربانی کی کیا حقیقت ہے۔یہ لوگ بظاہر بڑھا کر چندہ دینے والے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بڑھا کر دینے والے نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ اپنی سالانہ آمد کا ایک فیصدی حصہ چندہ میں دیتے ہیں جو ایک نہایت ہی ادنیٰ قربانی ہے۔اب تو ہم نے سینما دیکھنے کی ممانعت کی ہوئی ہے لیکن اس سے پہلے یہی سو اور ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار آمد رکھنے والے سال بھر میں پانچ دس روپے سینما دیکھنے پر ہی خرچ کر دیا کرتے تھے۔پھر کئی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں جن پر وہ اس سے بہت زیادہ روپے خرچ کر دیا کرتے ہیں مگر جب اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کا سوال آتا ہے تو وہ پانچ یا دس روپے سے زیادہ قربانی نہیں کر سکتے۔ایسے لوگوں کو بیشک میں قاعدہ کی رو سے کچھ نہیں کہہ سکتا مگر ان کے تقویٰ کی طرف ان کو توجہ دلاتا وں۔بے شک وہ ظاہری طور پر اپنا چندہ زیادہ کرنے والے تو ہیں لیکن وہ سوچیں کہ کیا خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بھی وہ اعلیٰ درجہ میں شامل ہیں؟ جب وہ سینما پر اس سے