خطبات محمود (جلد 22) — Page 636
خطبات محمود 636 * 1941 زیادہ خرچ کر دیا کرتے تھے، جب وہ گھر کی اور بیسیوں چھوٹی چھوٹی ضروریات پر اس سے بہت زیادہ روپیہ خرچ کر دیا کرتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی یہ قربانی کس طرح قبول کی جا سکتی ہے جو ادنیٰ سے ادنیٰ قربانی ہے۔در حقیقت وہی لوگ قربانی کرنے والے ہیں جو قربانی کے بوجھ کو محسوس کریں لیکن اگر کوئی شخص سو یا ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار آمد رکھتا ہو اور وہ پانچ روپے خدا تعالیٰ کے رستہ میں دے دے تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس نے ایسی مالی قربانی کی ہے جس کے بوجھ کو اس نے محسوس کیا ہے۔اس کے معنے تو یہ ہیں کہ وہ سو یا ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار لے کر سات آنے ماہوار کی قربانی کرتا ہے حالانکہ اس سے زیادہ وہ اپنی چوڑھی کو دے دیتا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے وہ چیز پیش کرتا ہے جو اس کا چوڑھا بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔وہ خدا تعالیٰ کے سامنے وہ چیز پیش کرتا ہے جو اس کا دھوبی بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔پھر بھی وہ سمجھتا ہے کہ اس کا نام خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں ان لوگوں میں لکھا ہونا چاہئے جنہوں نے اس کا قرب حاصل کیا اور جن پر اس کے غیر معمولی فضل نازل ہوں گے۔تو یہ ایک بڑی بھاری غلطی ہے جو بعض دوستوں کو لگی ہوئی ہے کہ انہوں نے پہلے سال کا چندہ اپنی استطاعت سے بہت کم دے کر اسے بڑھانا شروع کر دیا۔حالانکہ یہ رعایت صرف ان لوگوں کے لئے تھی جنہوں نے پہلے تین سالوں میں بہت زیادہ چندہ دے دیا تھا۔اور اب ان کے لئے اسی نسبت سے مسلسل دس سال قربانی کرتے چلے جانا مشکل تھا۔پس ایسے لوگ جنہوں نے اپنی تمام کی تمام پونجی سال یا ابتدائی تین سالوں میں دے دی تھی یا وہ لوگ جنہوں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر چندہ دے دیا تھا ان کو آئندہ اس تحریک میں شامل رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ ان سے رعایتیں کی جاتیں تاکہ وہ لوگ جنہوں نے قربانی کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا تھا وہ اپنی مجبوری کی وجہ سے دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں مگر اس