خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 600

* 1941 600 خطبات محمود اگر ہمارا مشنری اس کی مدد نہ کرتا تو وہ واپس بھی نہ آ سکتا۔مگر باوجود اس کے پیغامی ہمیشہ یہی کہتے رہتے ہیں کہ تبلیغ وہی کر رہے ہیں قادیانی جماعت کوئی تبلیغ نہیں کر رہی۔غرض پیغامیوں کے سوا باقی ساری دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ اس وقت احمد یہ جماعت ہے ہے ہی تبلیغ اسلام کا کام کر رہی ہے۔بلکہ بعض مسلمان اخبارات نے تو یہاں تک لکھا کہ جس کام کی بڑے بڑے بادشاہوں کو توفیق نہیں ملی۔وہ آج یہ چھوٹی سی جماعت بڑی عمدگی سے کر رہی ہے۔تو یہ صابِرُوا پر عمل کرنے کا ہی نتیجہ ہے۔اگر احمدی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہ کرتے۔اگر ان میں اتحاد نہ ہوتا، اگر ان میں نظام نہ ہوتا اور اگر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ ایک جتھہ کی شکل میں نہ ہوتے۔تو وہ صورت کبھی پیدا نہ ہو سکتی جو آج نظر آ رہی ہے۔اس کے بعد فرماتا ورابطوا۔جو قومیں یہ سمجھتی ہیں کہ ان کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ شیطان کا مقابلہ کر لیا اور اسے شکست دے دی۔وہ بھی بسا اوقات کچھ مدت کے بعد شیطان کے مقابلہ میں ہار جاتی ہیں۔اس لئے کہ وہ تیسرے قدم میں ست ہو سست ہو جاتی ہیں اور اس امر کا خیال نہیں رکھتیں کہ گو دشمن ایک دفعہ شکست کھا چکا ہے مگر امکان ہے کہ وہ دوبارہ حملہ کر دے اور فتح کو شکست سے بدل دے۔اللہ تعالیٰ اس نقص کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ایسا ممکن ہے تم دشمن کو کلیۂ شکست دے دو یا ایک علاقہ سے اسے بالکل نکال دو اور اس پر خود قبضہ کر لو لیکن یاد رکھو۔ہو سکتا ہے کہ دشمن کچھ عرصہ کے بعد پھر اس پر قابض ہو جائے اس لئے فرمایا جب تم دشمن کو شکست دے دو اور تم سمجھ لو کہ اب صابِرُوا کا وقت جاتا رہا تم مطمئن ہو کر نہ بیٹھ رہو۔کیونکہ ابھی ایک اور مقام رہتا ہے اور اگر تم نے اس مقام کا خیال نہ رکھا تو دشمن تمہیں جب بھی غافل پائے گا حملہ کر دے گا۔چنانچہ فرماتا ہے ورابطوا جب تم کوئی علاقہ فتح کر لو یا روحانی طور پر شیطان کو کسی علاقہ سے نکال دو جیسے جگہ گاؤں کا گاؤں احمدی ہو جاتا ہے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ یہ نصیحت کرتا کہ مومنوں کو غافل نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمیشہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے