خطبات محمود (جلد 22) — Page 601
* 1941 601 خطبات محمود بوکس اور ہوشیار رہنا چاہئے۔رباط کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ جہاں سرحدیں ملتی ہوں وہاں چوکیاں قائم کی جائیں تاکہ دشمن اچانک ملک میں داخل نہ ہو جائے۔تو اللہ تعالیٰ اس آیت میں لوگوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ قوموں کی بڑی بھاری غلطی یہ ہوتی ہے کہ جب وہ کامیابی حاصل کر لیتی ہیں تو سمجھ لیتی ہیں کہ اب وہ کلی طور پر جیت گئی ہیں حالانکہ کلی طور پر جیت دنیا میں ہو نہیں سکتی اور اگر کوئی قوم دنیا کو کلی طور پر جیت لے اور پھر ہمیشہ اپنی سرحدوں کی نگرانی رکھے تو اسے کبھی شکست ہی نہ ہو مگر دنیا میں سینکڑوں قومیں ہیں جو فاتح ہوئیں اور پھر انہوں نے یہ خیال کیا کہ اب وہ کلی طور پر فاتح ہو گئی ہیں لیکن کچھ عرصہ کے بعد ان میں غفلت پیدا ہو گئی اور وہی فاتح قومیں مفتوح اور ذلیل ہو گئیں۔کسی زمانہ میں ایران کی مملکت ایسی وسیع اور عظیم الشان تھی کہ ہندوستان اس کے قبضہ میں تھا، چین اس کے قبضہ میں تھا، عرب کا ایک اس کے قبضہ میں تھا، عراق شام اور فلسطین اس کے قبضہ میں تھا۔اناطولیہ اور آرمینیا اس کے قبضہ میں تھا بلکہ روس کے کچھ حصے بھی اس کے قبضہ میں تھے مگر اب ایران کی اس حکومت کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے۔بلکہ اب تو ایرانیوں کو دیکھ کر حیرت آتی ہے کہ گجا تو وہ حالت تھی کہ دنیا کے ، بہت بڑے حصہ کے وہ فاتح تھے اور کجا یہ حالت ہے کہ ایرانیوں کے اندر ایسی ہی نزاکت نظر آتی ہے جیسے دِتی اور لکھنو والوں کے اندر ہے۔چلیں گے تو لچے گی اور بات کریں گے تو اس طرح مٹک مٹک کر کہ یوں معلوم ہو گا تمام زنانہ صفات ان میں جمع ہو گئی ہیں۔کوئی شخص ان کو دیکھ کر یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ کسی زمانہ میں یہ ساری دنیا کے فاتح تھے اور سینکڑوں سال تک حکومت کرتے رہے تھے۔یہی لکھنو والے جن کا میں نے ابھی نام لیا ہے ایک زمانہ میں دتی تک ان کا عب تھا اور گو انہیں ہیں تیس سال ہی حکومت ملی مگر ان کا چاروں طرف رعب تھا۔ایک طرف بنگال تک ان کی حکومت کی سرحد جاتی تھی اور دوسری طرف دہلی کا بادشاہ ایک حصہ