خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 58

$1941 58 خطبات محمود کس طرح ترقی کی جا سکتی ہے مگر جن لوگوں نے اپنی عقل سے کام لیا وہ جس گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں اس کا اندازہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب انسان اس کا کوئی نظارہ دیکھے۔کل ایک ہندو صاحب مجھ سے ملنے آئے نہ معلوم اس کی کیا وجہ وہ کانپور کے رہنے والے تھے ان کے لڑکے کو پھانسی کی سزا ہو چکی ہے۔بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ چونکہ چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب اس۔جماعت میں ہیں میں ان کے پاس سفارش کر دوں گا اور ان کا کام ہو جائے گا اور وہ شاید سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا کا کام چوہدری صاحب کے ہی سپرد ہے اس لئے ایسے لوگوں سے ملا نہیں کرتا۔مگر ان کے متعلق بتایا گیا کہ وہ صرف دعا کرانا چاہتے ہیں سفارش نہیں۔اس لئے میں نے ان کو ملاقات کا موقع دے دیا۔وہ آئے اور بیٹھ گئے اور ذکر کیا کہ ان کا لڑکا کانگرسی تھا، زمینداروں کے معاملات میں بہت دلچسپی لیتا تھا اور کسانوں کی زمینداروں کے مقابلہ میں بہت حمایت کیا کرتا تھا۔کسی جگہ کسانوں نے ایک زمیندار کو ہلاک کر دیا اور چار کسانوں کے ساتھ اس کو بھی اس الزام میں پکڑ لیا گیا اسے بھی پھانسی کی سزا ہوئی جو ہائی کورٹ تک بحال رہی اور اب رحم کی اپیل بھی مسترد ہو چکی ہے۔یہ ان کا بیان تھا۔میں نہیں کہہ سکتا کہ ہے یا محض والد ہونے کی وجہ سے وہ ایسا سمجھتے تھے کہ ان کا لڑکا اس جرم میں شریک نہ تھا۔محض اس وجہ سے اسے دھر لیا گیا کہ وہ کانگرسی تھا اور زمینداروں کے خلاف کسانوں کا ہمدرد تھا۔وہ جب باتیں کر رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ ان کی آخری امید بھی قریباً جاتی رہی تھی اور ان کے اندر ایک گھبراہٹ اور اضطراب تھا اور میں نے پوچھا تو نہیں مگر میرا قیاس ہے کہ شاید ان کا یہی ایک لڑکا تھا۔وہ بوڑھے آدمی ہیں۔اسی گھبراہٹ اور اضطراب میں باتیں کرتے کرتے انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں بھگوان کہاں سو رہے ہیں؟ پھر تھوڑی دیر خاموشی کے بعد کہا معلوم نہیں مجھے کس جنم کے کون سے گناہ کی سزا مل رہی ہے۔