خطبات محمود (جلد 22) — Page 540
* 1941 540 خطبات محمود بنتا ہے۔جو خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قواعد کے مطابق ہو تو خدا تعالیٰ کا مقرب ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔چنانچہ دیکھ لو۔جس وقت جہاد ہوتا ہے۔دونوں فریق ایک سا کام کر رہے ہوتے ہیں۔وہ بھی تلوار چلا رہا ہوتا ہے اور یہ بھی تلوار چلا رہا ہوتا ہے۔کافر، مومن کو مارتا ہے اور مومن کافر کو مارتا ہے۔پس بظاہر ان دونوں کا فعل یکساں ہوتا ہے مگر جب کافر کی تلوار سے ایک مومن گرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا عرش کانپ جاتا ہے اور فرشتے اس کافر پر لعنتیں ڈالتے ہیں لیکن جب کسی مومن کی تلوار سے ایک کافر گرتا ہے تو فرشتے خوش ہوتے اور مومن پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل کرتے ہیں حالانکہ فعل ایک ہوتا ہے، مقام ایک ہوتا ہے اور ذریعہ قتل ایک ہوتا ہے مگر ایک کے فعل پر تو برکتیں اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور دوسرے کے فعل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنتیں اور ملامتیں نازل ہوتی ہیں۔پس اپنی ذات میں ممیت ہونا یا مخی ہونا کوئی اچھی یا بری بات نہیں اگر مخی ہونا خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت ہو تو اچھا ہوتا ہے۔اور اگر ممیت ہونا خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت ہو تو اچھا ہے لیکن اگر مُمِیت یا مُخی ہونا خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے خلاف ہو تو یہی بات بُری بن جاتی ہے۔آجکل جو لڑائی لڑی جا رہی ہے اس کو اگر ہم لڑائی کے لحاظ سے دیکھیں تو یقینا اسے بُرا نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ لڑائی رسول کریم صلی الم نے بھی ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی کی ہے ، حضرت داؤڈ اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے بھی کی ہے، حضرت کرشن علیہ السلام اور حضرت رام چندر نے بھی کی ہے۔اسی طرح اور کئی انبیاء ہیں جنہوں نے لڑائیاں کیں۔پس ہم لڑائی کو برا نہیں سکتے۔جو چیز بری ہے وہ یہ ہے کہ ایسی لڑائی لڑی جائے جو خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قواعد کے خلاف ہو۔ورنہ دنیا میں کئی لڑائیاں ایسی ہوتی ہیں جو رحمت کا موجب ہوتی ہیں۔قرآن کریم میں ہی آتا ہے کہ اگر ہم لڑائی کی اجازت نہ دیتے تو بعض ظالم ایسے تھے جو مسلمانوں کی مساجد، عیسائیوں کے گرجے اور ہندوؤں کے مندر وغیرہ گرا دیتے۔1 اس وقت بھی کئی ایسے ظالم مسلمان موجود ہیں جن کو اگر اختیار مل جائے تو