خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 536

* 1941 536 خطبات محمود دوسرے الفاظ میں اپنے رنج کا اظہار کرتے ہیں اور کسی کی پیدائش پر خواہ دنیا کے لوگ خوشی نہ منائیں، فرشتے بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔یہی حال موت کا ہے۔موت کے وقت بھی دنیا کے ہر انسان کے رشتہ دار اور دوست تھوڑے ہوں یا بہت، رنج محسوس کرتے ہیں۔ایک ڈاکو مرتا ہے تو اس کے بیوی بچے خوش نہیں ہوتے کہ ہمارا باپ ڈاکو تھا، قاتل تھا، فتنہ و فساد پھیلاتا تھا، اچھا ہوا کہ وہ مر گیا بلکہ ان کی اسی طرح چیخیں نکل جاتی ہیں جس طرح بڑے سے بڑے محسن اور نیک باپ کے بچوں کی اس کی وفات پر نکل جاتی ہیں اور وہ دنیا کے لئے اس کی موت کو ایسا ہی خطرناک سمجھتے ہیں جیسے کسی بڑے سے بڑے مصلح کی وفات کو۔بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بارہا ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات ہوئی تو چونکہ ان کے دورِ حکومت میں امن قائم ہوا تھا اور وہ طوائف الملو کی جو پہلے پھیلی ہوئی تھی جاتی رہی تھی اس لئے سکھوں کے علاوہ جو اُن کے ہم مذہب اور ہم قوم تھے ہندو اور مسلمان بھی عام طور پر سمجھتے تھے کہ اب ان کی وفات کے بعد پھر فتنے پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے۔اس لئے لوگوں میں ایک کہرام مچا ہوا تھا اور ہر شخص کے آنسو رواں تھے جن کے زیادہ گہرے تعلقات تھے وہ چیچنیں مار رہے تھے۔فرماتے تھے کہ کوئی چوہڑا لاہور کے سے گزرا اورا س نے جب دیکھا کہ ہر شخص ماتم کر رہا ہے تو اس نے کسی قریب چھا کہ آج لاہور والوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جس کو دیکھو رو رہا ہے جس کو دیکھو رو رہا ہے۔اس نے کہا تمہیں پتہ نہیں مہاراجہ رنجیت سنگھ فوت ہو گئے ہیں۔وہ بڑی حیرت کا اظہار کر کے کہنے لگا۔اچھا رنجیت سنگھ مر گیا ہے اور اس پر لوگ رو رہے ہیں۔پھر کہنے لگا۔باپو ہوراں جیسے مر گئے تے رنجیت سنگھ بچارا کس شمار وچ " جب میرے باپ جیسا آدمی مر گیا تو رنجیت سنگھ بھلا کس شمار میں تھا۔اب مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ذریعہ بے شک امن قائم ہوا تھا۔مگر چونکہ اس چوہڑے کا تعلق 66