خطبات محمود (جلد 22) — Page 535
* 1941 535 خطبات محمود جن میں سے ایک خوشی پیدا کرتی ہے اور ایک رنج پیدا کرتی ہے۔مگر یہ نقطہ نگاہ انسانوں کے لحاظ سے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو عالم الغیب ہے یہ دونوں مواقع نہ کلی طور پر خوشی کا موجب ہوتے ہیں اور نہ کلی طور پر غم کا موجب ہوتے ہیں۔جب کوئی بچہ کسی کے گھر میں پیدا ہوتا ہے تو اس کے ماں باپ اور عزیز سمجھتے ہے۔ہیں کہ ایک نیا چاند دنیا میں نکلا ہے۔ایک رحمت کا نیا دروازہ ہمارے لئے کھلا حالانکہ بسا اوقات پیدا ہونے والی روح دنیا کے لئے کسی قسم کے مصائب اور دکھوں کا موجب ہوتی ہے۔اس کے رشتہ دار تو اس کی پیدائش پر خوش ہو رہے ہوتے ہیں لیکن آسمان پر خدا کے فرشتے اس کی پیدائش سے غمگین ہو رہے ہوتے ہیں۔ابو جہل کی پیدائش پر مکہ خوشی سے اچھل رہا تھا لیکن آسمان کے فرشتے اگر ان کے لئے رونا ممکن ہے تو وہ آسمان پر رو رہے تھے۔اس کے مقابلہ میں محمد صلی ایم کی پیدائش پر مکہ والوں کو کوئی احساس بھی نہ تھا کیونکہ ایک یتیم بچہ تھا جو پیدا ہوا۔قریبی رشتہ داروں کے دلوں پر ضرور خوشی ہوئی ہو گی ورنہ باقیوں کو احساس بھی نہ تھا کہ آج کون پیدا ہوا ہے۔مگر جب دنیا کے لوگ اس کی پیدائش پر خاموشی سے وقت گزار رہے تھے اور سوائے قریبی رشتہ داروں کے کسی کے دل میں خوشی کے جذبات پیدا نہیں تھے اس وقت آسمان کے فرشتے خوشی سے اچھل رہے تھے کیونکہ ان کو خدا کی طرف سے یہ علم دیا گیا تھا کہ دنیا کا نجات دہندہ پیدا ہو گیا ہے اور جس مقصد کے لئے خدا نے دنیا کو پیدا کیا تھا اس مقصد کو تعمیل تک پہنچانے والا انسان ظاہر ہو گیا ہے۔تو پیدائش دنیا کے نزدیک ایک ہی نکتہ رکھتی ہے یعنی خوشی۔کسی کی پیدائش پر تھوڑے لوگ خوش ہوتے ہیں۔کسی کی پیدائش پر ایک ہی آدمی یعنی ماں خوش ہوتی ہے، کسی کی پیدائش پر ہزاروں آدمی خوش ہوتے ہیں، کسی کی پیدائش لاکھوں آدمی خوش ہوتے ہیں اور کسی کی پیدائش پر کروڑوں آدمی خوش ہوتے ہیں لیکن آسمان کے فرشتے کسی کی پیدائش پر اگر ان کے لئے رونا ممکن ہو تو آنسو بہاتے یا