خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 489

* 1941 489 خطبات محمود بڑی خوشی سے قبول کرتے اور کہتے اللہ اللہ خدا یہ دن ہمیں اور بھی دکھائے۔پھر ابراہیم علیہ السلام آئے۔انہیں دشمنوں نے گالیاں بھی دیں، انہیں جھوٹا بھی کہا، انہیں مارا پیٹا بھی گیا بلکہ دشمنوں نے انہیں گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا۔13 اب اس وقت کے دیکھنے والے یہی کہتے ہوں گے کہ کیا ہی وہ بری ماں تھی جس نے ایسا بچہ جنا اور کیسا ہی وہ بد قسمت باپ تھا جس کے ہاں ایسا لڑکا پیدا ہوا۔ہمارے گھر کے دروازه پر تو صرف آرمڈ پولیس چند گھنٹے کھڑی رہی تھی مگر وہاں تو دشمنوں نے گھسیٹ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا تھا۔اب بتاؤ کیا وہاں زیادہ ذلت ہوئی تھی یا میری زیادہ ذلت ہوئی ہے۔یہ نصیحت کرنے والا مجھے لکھتا ہے کہ نے کتنی بڑی بیوقوفی کی کہ منبر پر کھڑے ہو کر اس واقعہ کو بیان کر دیا اور وہ نادان یہ نہیں دیکھتا کہ میں نے تو صرف منبر پر کھڑے ہو کر اسے بیان کیا تھا مگر ابراہیم کے واقعہ کو خدا تعالیٰ نے عرش پر بیان کیا ہے۔پس وہی فعل جو نمرود 14 اور اس کے ساتھیوں کے نزدیک ذلت کا موجب تھا خدا کے نزدیک ابراہیم کی عزت کا باعث تھا۔اسی لئے خدا نے عرش پر اس کا ذکر کیا اور کہا کہ دنیا کی نگاہ میں بے شک ابراہیم ذلیل ہوا مگر ہماری نگاہ میں وہ ذلیل نہیں ہوا بلکہ پہلے سے کئی گنا زیادہ اس کی عزت ہمارے ہاں بڑھ گئی ہے اور اصل عزت وہی ہوتی ہے جو خدا اور رسول اور مومنوں کی نگاہ میں کسی کو حاصل ہو۔پس جب ابراہیم کو دنیا میں گالیاں دی گئیں تو خدا تعالیٰ کے نزدیک ابراہیم کی عزت اور بھی بڑھ گئی اور یہاں عرش پر ابراہیم کا پہلے نام لکھا تھا۔خدا نے اس نام کو مٹا کر فرشتوں سے کہا کہ ابراہیم کا نام لکھو۔پھر جب انہیں گھسیٹ کر آگ میں ڈالا گیا تو خدا تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے پھر کہا کہ یہاں سے بھی ابراہیم کا نام مٹاؤ اور اوپر لکھو۔پس منبر پر اس واقعہ کو بیان کرنے سے میری کہاں ذلت ہوئی۔جب خدا نے ابراہیم کے واقعات کو عرش پر بیان کیا بلکہ قرآن میں ان کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ انہیں یہ ماریں پڑی تھیں اور یہ یہ گالیاں دی گئی تھیں۔اور اوپر