خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 485

* 1941 485 خطبات محمود اپنے آپ کو بڑا بہادر کہتے ہو تم بہادر نہیں بلکہ بزدل ہو۔مگر لطیفہ یہ ہے کہ میں جس نے منبر پر کھڑے ہو کر گورنمنٹ کی غلطی بیان کر دی تھی۔وہ تو اس کی نگاہ میں بزدل ہو انگر خود اس اعتراض کرنے والے کی یہ حالت ہے کہ ڈر کے مارے اس نے اپنا نام تک نہیں لکھا۔کہتے ہیں بر عکس نهند نام زنگی کافور مخلص یہی اس شخص کی حالت ہے اگر وہ اپنے متعلق لکھ دیتا کہ میں چونکہ منافق ہوں اس لئے اپنا نام ظاہر نہیں کرتا۔اور پھر میرے متعلق یہ لکھتا ہے کہ تم بزدل ہو تب بھی یہ بات آپس میں کسی قدر بجڑ جاتی۔گو میرے متعلق بزدلی کا الزام پھر بھی غلط ہوتا کیونکہ میں نے گورنمنٹ کی غلطی کو چھپایا نہیں بلکہ علی الاعلان بیان کیا ہے مگر لطیفہ لطیفہ یہ ہے یہ ہے کہ اپنے آپ کو تو وہ بہادر کہتا پھر احمدی اور ہے احمدی بننے کا دعویدار ہے اور حالت یہ ہے کہ ایسا بہادر اور مخلص احمدی خط کے نیچے اپنا نام تک لکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔مگر میں جس نے منبر پر ر پر کھڑے ہو کر تمام باتیں بیان کر دی تھیں اس کے نزدیک بزدل ہوں۔گویا وہ شخص جو يُوسُوِسُ في صُدُورِ النَّاسِ 11 کے مطابق مخفی طور پر وسوسہ اندازی کرے اور گمنام خط لکھے وہ تو مومن اور ”مخلص احمدی“ ہے مگر جو منبر پر کھڑے ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کر دے وہ بزدل ہے۔غرض پہلا لطیفہ تو اس نے یہی کیا مگر اسی ایک لطیفہ پر ہی بس نہیں۔اس کا تمام خط اضداد سے بھرا ہوا ہے۔پھر بڑے غصہ سے گویا وہ گورنر صاحب کا بڑا جانثار ہے۔مجھے لکھتا ہے تم گورنر کے متعلق کیا کہتے ہو۔کیا گورنر تم سے زیادہ شریف نہیں۔مگر ساتھ ہی اس نے اسی خط مجھے لکھا ہے“ بخدمت پر اشرف ” یعنی میں اس خط کے ذریعہ سب سے شریف آدمی کو مخاطب کرتا ہوں۔گویا تو مجھے سب سے زیادہ شریف قرار دے دیا اور خط میں یہ لکھا کہ کیا گورنر صاحب تم سے زیادہ شریف نہیں ہیں۔پھر اس نے اپنے خط میں ناظر امور عامہ کو کوسا ہے اور لکھا ہے کہ سب سے بڑا ظالم جس سے زیادہ ظلم دنیا میں خط کے اوپر کبھی