خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 480

* 1941 480 خطبات محمود پر فرمایا تمہیں مجھ سے کیا تکلیف پہنچی ہے۔اس نے کہا یا رسول اللہ فلاں جنگ کے آپ صف بندی کرا رہے تھے کہ آپ کو ایک صف میں سے گزر کر آگے جانے کی ضرورت پیش آئی۔اُس وقت جب آپ صف کو چیر کر آگے گئے تو آپ کی کہنی مجھے لگی تھی۔رسول کریم صلی ا مریم نے فرمایا بہت اچھا تم بھی مجھے اس جگہ کہنی مار لو۔اس نے کہا یا رسول اللہ جس وقت مجھے آپ کی کہنی لگی تھی۔اس وقت میرا جسم ننگا تھا اور آپ نے اس وقت کرتہ پہنا ہوا ہے۔اس وقت صحابہ کی یہ کیفیت تھی کہ ان کی آنکھوں میں سے خون ٹپکنے لگا اور اگر انہیں رسول کریم صلی اللہ کا خوف نہ ہوتا تو ہر شخص اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا۔مگر رسول کریم صلی الیم نے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی۔اپنی پیٹھ سے کرتہ اونچا کر دیا اور فرمایا لو اب کہنی مار لو۔وہ شخص آگے بڑھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے اور اس کا دل دھڑک رہا تھا۔پھر وہ نیچے جھکا اور اس نے محبت سے رسول کریم صلی الیم کی پیٹھ پر ایک بوسہ دیا اور کہنے لگا يَا رَسُول اللہ ! اس کہنی لگنے کے واقعہ کو تو میں نے محض ایک بہانہ بنایا ہے ورنہ بدلہ کیسا۔میں نے سوچا کہ اب جبکہ آپ کی وفات کا وقت قریب ہے۔میں آخری دفعہ آپ کا بوسہ تو لے لوں۔پھر وہی صحابہ جو اسے غصہ کی نگاہ سے دیکھ سے دیکھ رہے تھے رشک کی نظروں تھے رشک کی نظروں سے دیکھنے لگ گئے اور انہوں نے چاہا کہ کاش! ہمیں بھی کہنی لگی ہوتی اور ہم بھی رسول کریم صلی ال نیم کے بابرکت جسم کا بوسہ لے سکتے۔8 دیکھو یہ ایک بہانہ تھا جو اس نے بنایا اور اسی کو عاشق کی ہیرا پھیری کہتے ہیں۔یہ تو نہیں کہ اس کے دل میں رسول کریم صلی الم سے بدلہ لینے کا خیال تھا یا رسول کریم صلی ا ل ل ا م نے اسے نَعُوذُ باللهِ عمداً مارا تھا۔بدلہ تو اس فعل کا لیا جاتا ہے جو عمداً دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے سرزد ہو۔پس نہ رسول کریم صلی یم نے الله سة اس کو کوئی نقصان پہنچایا تھا اور نہ اس صحابی کا مقصد یہ تھا کہ وہ رسول کریم صلی الی یکم سے بدلہ لے۔یہ محض اس نے ایک بہانہ بنایا کہ جب رسول کریم صلی علیکم کہتے ہیں بدلہ