خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 481

* 1941 481 خطبات محمود لے لو۔تو کیوں نہ میں بھی اسی ذریعہ سے اپنی محبت کے جذبات کا اظہار کر دوں۔تو جس جگہ محبت ہوتی ہے وہاں بیسیوں تجاویز ذہن میں آ جاتی ہیں اور انسان اپنے محبوب کے پاس جانے اور اس سے باتیں کرنے کے لئے کئی قسم کے مواقع پیدا کر لیتا ہے۔پس مومن دعاؤں میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا بلکہ اس محبت کی وجہ سے جو اسے خدا تعالیٰ سے ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کے پاس جانے اور اس سے باتیں کرنے کے لئے ہر وقت بہانے تلاش کرتا رہتا ہے۔مومن خود بیمار ہو یا اس کا کوئی اور عزیز بیمار ہو تو وہ دعا کرتا ہے۔مالی مشکلات ہوں تو دعا کرتا ہے اسی طرح کوئی اور تکلیف پیش آئے تو وہ دعا کرتا ہے لیکن اس کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح خدا تعالیٰ سے باتیں ہوتی رہیں۔بچوں کو ہی دیکھ لو۔ماں تھوڑی دیر ان کی طرف توجہ نہ کرے تو وہ منہ بسورنے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں بھوک لگ گئی ہے۔ہمیں یہ چاہئے ہمیں وہ چاہئے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ ماں اپنی گود میں اٹھا لے۔پس جسے سچا عشق ہوتا ہے وہ ایسا ہی کرتا ہے اور وہ اپنے محبوب کی ملاقات کے لئے بہانے تلاش کرتا ہے۔محبت بھی ایک بیماری ہے جو علاج چاہتی ہے اور وہ بھی ایک زخم ہے جو مرہم چاہتا ہے۔اسی لئے انسان کبھی بیمار بن کر خدا کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے یا اللہ فضل کر اور کبھی اگر جسمانی طور پر وہ بیمار نہ ہو تو اپنی روحانی تکالیف اس کے سامنے پیش کرتا ہے اور اس طرح ہر وقت اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر گرا رہتا ہے۔غرض مومن بجائے اس کے کہ دعاؤں کی طرف سے منہ پھیرے، بہانے بنا بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتا اور ہمیشہ اس کے دروازہ کو کھٹکھٹاتا رہتا ہے۔پس دوستوں کو ان ایام سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے۔ڈلہوزی کے واقعہ کے متعلق حکومت کا جواب: اس کے بعد میں اُس واقعہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جسے پچھلے خطبہ جمعہ میں میں نے بیان کیا تھا۔دوستوں کی طرف سے اس بارہ میں کثرت کے ساتھ خطوط اور تاریں آئی ہیں اور