خطبات محمود (جلد 22) — Page 389
خطبات محمود 390 * 1941 ہتک کرتے ہو۔اور اس کے معنے یہ ہیں کہ تم اس کے فعل کو پسند کرتے ہو۔پھر آپس میں ہمدردی کرو اور دوسروں سے بھی ہمدردی کرو۔اگر گاڑی میں کوئی بوڑھا آ جائے تو اس کے لئے قربانی کا نمونہ دکھاؤ۔خود کھڑے ہو جاؤ اور اسے بیٹھنے دو۔اگر اسے پانی کی ضرورت ہو تو لا دو۔بیمار ہو تو اسے دبا دو۔ممکن ہو تو دوائی بھی لا دو۔غرضیکہ ایسا نمونہ دکھاتے جاؤ اور دکھاتے آؤ کہ سب دیکھنے والے کہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھوں میں اگر طاقت آ جائے تو دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔خوب یاد رکھو کہ دنیا میں امن قربانی سے قائم ہوتا ہے۔زور اور طاقت سے نہیں۔پس جتنی زیادہ قربانی تم کرو گے۔اتنی ہی جلدی خدا تعالیٰ تمہارے ہاتھوں میں دنیا کی باگ دے گا۔اور اتنی ہی جلدی تم دنیا میں امن قائم کر سکو گے۔سستی کی عادت نہ ڈالو اور کبھی یہ نہ سمجھو کہ اب چھٹیاں ہوئی ہیں خوب سوئیں گے۔چھٹیاں سونے کے لئے نہیں ہوتیں بلکہ اس لئے ہوتی ہیں کہ استاد نیا سبق نہ پڑھائے اور پچھلا پڑھا ہوا یاد کر لیں۔پس یہ نہ کہو کہ چھٹیوں میں سوئیں گے بلکہ کہو کہ پہلے جو غفلت ہوتی رہی ہے اب چھٹیوں میں اس کا ازالہ کریں گے او رسبق اچھی طرح یاد کر لیں گے۔سکول میں تو مدرس روز نیا سبق دے دیتا ہے اور اسے باد کرنا ہوتا ہے۔اس لئے اگر کوئی سبق یاد کرنے سے رہ جائے تو کمزوری رہ جاتی ہے اور چھٹیاں ان کمزوریوں کو دور کرنے کا بہترین موقع ہوتی ہیں۔سچائی کا بھی اعلیٰ نمونہ دکھاؤ۔جو کہو سچ کہو۔یہ ضروری نہیں کہ ہر بات ضرور کہو۔مثلاً کوئی کہے کہ میں نے فلاں شخص کو کانا کہا تھا کیونکہ یہ سچی بات ہے اور سچ بولنے کا حکم ہے۔تو یہ درست نہ ہو گا۔ہر سچی بات کا کہنا ضروری نہیں ہوتا۔حکم یہ ہے کہ جو کہو سچ کہو۔شریعت تمہیں یہ نہیں کہتی کہ ہر سچی بات ضرور کہو۔شریعت کا حکم یہی ہے کہ جب ضرورت نہ ہو، چپ رہو۔مگر جب بولو تو سچ بولو۔سینکڑوں باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان ان کو بیان نہیں کر سکتا اور شریعت ان کے بیان پر مجبور نہیں کرتی۔اگر کوئی ایسا عیب کسی میں دیکھو کہ جس کے متعلق شریعت