خطبات محمود (جلد 22) — Page 390
خطبات محمود 391 * 1941 کہتی ہے کہ اسے بیان نہ کرو تو اسے مت بیان کرو۔مگر کوئی بات کرو اور جھوٹ بولو یہ جائز نہیں۔سچ بولنے کے یہ معنے نہیں کہ ہر بات جو تم کو معلوم ہے ضرور بیان کر دو۔تمہیں یہ حق ہے کہ بعض باتوں کے متعلق کہہ دو کہ میں بیان نہیں کرنا چاہتا۔بعض باتیں خواہ وہ سچ ہوں بیان کرنے سے قانون نے بھی روکا قانون نے بھی روکا ہے مثلاً قانون یہی ہے کہ جو بات دوسرے کو بُری لگے اس کی بناء پر ہتک عزت کا مقدمہ ہو سکتا ہے۔پس یہ ضروری نہیں کہ ہر سچی بات ضرور بیان کرو۔ہاں جو بیان کرو وہ سچ سچ بیان کر دو۔پس یہ باتیں ضرور اپنے اندر پیدا کرو۔خدمت خلق، چیستی، سچائی اور معاملات کی درستی۔اگر ایک پیسہ بھی کسی سے لیا ہے تو جب تک اسے واپس نہ کرو تمہیں چین نہ آئے۔محنت کی عادت ڈالو۔اپنا سبق اچھی طرح یاد کرو۔رستہ میں مسافروں سے اچھا سلوک کرو۔ماں باپ کی خدمت کرو اور ایسا نمونہ دکھاؤ کہ جس طرح پھول لے کر کوئی شخص ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تو تمام رستہ میں ان کی خوشبو پھیل جاتی ہے اسی طرح اب جو تم اپنے اپنے گھروں کو جو ہندوستان کے ہر گوشہ میں ہیں جاؤ تو تمام ہندوستان تمہاری خوشبو سے مہک اٹھے اور جس طرح پھولوں کی خوشبو پھیلتی ہے تمہاری خوشبو بھی سارے ملک میں پھیل جائے اور تمام ملک تمہاری خوشبو سے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک مہک اٹھے۔اگر تم ان باتوں پر عمل کرو گے تو واقعی تمام ملک تمہاری خوشبو سے مہک اٹھے گا اور لوگ کہیں گے کہ کیسا خوش قسمت ہے ہمارا ملک کہ جس میں ایسے بچے پیدا ہوئے ہیں۔اور ملک کی کتنی خوش قسمتی ہے کہ اس کی باگیں اب ان کے ہاتھوں میں آنے والی ہیں۔" الفضل 30 جولائی 1941ء) 1 تاریخ طبری جلد 5 صفحہ 72 مطبوعہ بیروت 1987ء 2 مسلم كتاب الايمان باب الدليل على دخول طوائف المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب 3 مسلم كتاب البر والصلة باب تراحم المومنين و تعاطفهم و