خطبات محمود (جلد 22) — Page 363
خطبات محمود آج وہ 364 * 1941 جہاں انہوں نے آج یہ تجویز پیش کی ہے وہاں میری یہ تجویز ایک سال پہلے کی تھی۔مگر مولوی صاحب نے اس کو اب تک منظور نہیں کیا اور اپنی طرف سے ایک نئی تجویز پیش کر دی ہے۔اگر وہ میری تجویز کو منظور کر لیتے تو چونکہ یہ دونوں کی تحریرات کے مجموعہ کی اشاعت کا خرچ دونوں کو آدھا آدھا دینا تھا اس لئے فائدہ انہی کو رہتا۔ان کی ایسی تحریرات میری نسبت بہت زیادہ ہو تیں۔میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں صرف سال ڈیڑھ سال تک ایک سہ ماہی رسالہ کا ایڈیٹر رہا ہوں۔اور وہ سالہا سال تک ایک ماہوار رسالہ کے ایڈیٹر رہے ہیں اور اس لئے میری ایک صفحہ کی تحریرات کے مقابلہ میں ان کی تحریرات بیسیوں صفحات کی ہوں گی جنہیں گویا ہم اپنے خرچ پر شائع کرتے۔کیونکہ میری ایک صفحہ کی تحریرات کے ساتھ ان کی ہیں صفحات کی تحریرات شائع ہو جاتیں مگر انہوں نے اس تجویز کو نہ مانا۔ہیں کہ میں ان کا مضمون " الفضل ” میں شائع نہیں کراؤں گا۔کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ جماعت کے لوگ ان کی تحریرات سے متاثر نہ ہو جائیں۔حالانکہ اس میں ڈرنے کی کوئی بات ہی نہیں۔اگر میں ڈرتا ہوتا تو خود اپنی طرف سے ان تحریرات کو شائع کرنے کی تجویز کیوں پیش کرتا اور اگر وہ ایسے ہی نڈر ہیں تو انہوں نے میری تجویز کو منظور کیوں نہ کیا۔اس میں ان کو صرف اتنی تکلیف کرنی پڑتی کہ میرے اُس زمانہ کے عقائد نکال دیتے اور میں ان کے عقائد کے متعلق اس زمانہ کے حوالے نکال دیتا۔ان کی تحریرات چونکہ زیادہ تھیں اس لئے مجھے ان سے زیادہ تکلیف کرنی پڑتی۔بلکہ ہم دونوں کو اتنی بھی تکلیف کی ضرورت نہ تھی۔وہ میرے حوالے نکالنے کے لئے اپنے کسی مبلغ کو مقرر کر دیتے اور اسی طرح ان کے حوالے نکالنے کے لئے میں بھی اپنا کوئی مبلغ مقرر کر دیتا اور اس کے بعد ان کو صرف اتنا کرنا تھا کہ وہ ان تحریرات کے نیچے لکھ دیتے کہ آج بھی میرے عقائد یہی ہیں اور میں بھی ان کے تلاش کردہ حوالوں کے نیچے لکھ دیتا کہ آج بھی میرے یہی عقائد ہیں۔پھر یہ تحریریں شائع کرنے پر جو خرچ آتا تھا وہ دونوں کو نصف نصف ادا