خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 364

* 1941 365 خطبات محمود کرنا تھا اور اس میں بھی ان کا ہی فائدہ تھا۔جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں ان کی تحریرات میری نسبت بہت زیادہ ہیں فرض کرو کل 25 صفحات ہوں تو میری تحریرات تو صرف ایک دو صفحات کی ہوں گی اور باقی سب ان کی۔گویا میری تحریرات کی نسبت ان کی دس گنا زیادہ ہیں اور حوالوں کی نسبت سے اگر خرچ تقسیم کیا جائے تو ان کی تحریرات پر ہمارا خرچ بہت زیادہ ہوتا۔کل خرچ اگر ایک ہزار روپیہ فرض کر لیا جائے تو پانچ پانچ سو دونوں کے حصہ میں آتا۔لیکن 25 صفحات میں سے میری تحریرات صرف دو صفحہ کی اور ان کی 23 صفحات کی ہوتیں۔اور اس طرح انہیں تو اپنی 23 صفحات کی تحریروں کی اشاعت کے لئے پانچ سو روپیہ دیز سو روپیہ دینا پڑتا اور ہمیں دو صفحات کی تحریرات کے لئے۔گویا ہمارے پانچ سو روپیہ میں سے زیادہ سے زیادہ پچاس روپے تو میری تحریرات کی اشاعت پر خرچ آتے اور باقی ساڑھے چار سو ان کی تحریروں کی اشاعت پر۔اور ان کا روپیہ کا بہت زیادہ حصہ ان کی اپنی تحریروں کی اشاعت پر خرچ ہوتا۔غرض میں جو پانچ سو روپیہ دیتا اس میں سے بھی ساڑھے چار سو ان کی ریروں کی اشاعت کا خرچ ہوتا اور ان کا اپنا روپیہ بھی انہی کی تحریروں پر خرچ ہوتا۔اس سے زیادہ انصاف کی بات کیا ہو سکتی تھی کہ ہم ان کی تحریروں کی اشاعت کے لئے روپیہ اپنے پاس سے دیں اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ وہ جو پانچ سو روپیہ دیتے اس میں سے بھی پچاس روپے میری تحریروں کی اشاعت پر خرچ ہوتے تو بھی یہ ماننا پڑے گا کہ ان کا اپنا بھی ساڑھے چار سو روپیہ ان کی تحریروں کی اشاعت کا خرچ ہوتا اور میں جو پانچ سو روپیہ دیتا اس میں سے سو روپیہ دیتا اس میں سے بھی ساڑھے چار سو انہی کی تحریرات کی اشاعت میں خرچ ہوتا اور اس طرح یہ تجویز سراسر ان کے فائدہ کی تھی۔پھر اس لحاظ سے بھی یہ تجویز ان کے لئے مفید تھی کہ ان کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ مبارک کی تحریریں شائع ہو جاتیں۔وہ تحریریں جنہیں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام پڑھتے تھے یہ ایسے مبارک ایام کی تحریریں ہیں جنہیں