خطبات محمود (جلد 22) — Page 266
* 1941 267 خطبات محمود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص کسی بادشاہ کے دربار میں گیا اور کہا کہ یہ دنیا سب وہم ہی وہم ہے آپ بھی وہم ہیں، میں بھی وہم ہوں، بادشاہت اور حکومت بھی وہم ہیں۔بادشاہ اسے بہت عرصہ تک سمجھاتا رہا کہ یہ بات درست نہیں اور اس سے خوب بحث مباحثے ہوتے رہے مگر وہ اپنی رائے پر قائم رہا۔بادشاہ نے خیال کیا کہ اسے کسی ایسی آزمائش میں ڈالنا چاہئے کہ اس کا یہ خیال دور ہو۔ایک دن اس نے اپنا دربار اوپر کی منزل پر منعقد کیا اور سب درباریوں اور امراء وغیرہ کو اوپر ہی بلوا لیا مگر اسے نیچے ہی رہنے دیا۔اس کے بعد جانوروں کے افسروں کو حکم دیا کہ ایک مست ہاتھی لا کر وہاں چھوڑ دیں اور ایک سیڑھی اوپر کی منزل پر آنے کے لئے لگی رہنے دی۔جب ہاتھی آیا اور نظر ماری تو اسے وہاں ایک آدمی کھڑا دکھائی دیا اور معاً اس پر حملہ آور ہوا۔وہ شخص اِدھر اُدھر جان بچانے کے لئے بھاگتا رہا مگر جدھر وہ جاتا ہاتھی پیچھے جاتا۔آخر وہ گھبرا کر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔بادشاہ نے اسے دیکھ کر کہا کہ تم گھبرا کر اوپر کیوں چڑھنے لگے ؟ یہ تو محض وہم ہے۔ہاتھی بھی وہم ہے اور تم پر اس کے حملہ کا خیال بھی وہم ہے اور جب سب کچھ وہم ہے تو بھاگتے کیوں ہو؟ وہ بھی کوئی ہوشیار اور چالاک آدمی تھا۔اس نے فوراً جواب دیا کہ سیڑھیوں پر چڑھ کون رہا ہے؟ یہ بھی وہم ہی ہے۔تو اس قسم کے لوگوں کا کوئی علاج دنیا میں نہیں۔یہ در حقیقت مریض ہوتے ہیں اور قوت فیصلہ ان میں نہیں ہوتی۔اس لئے جو بات سنتے ہیں اس کے متعلق آسان طریق یہی نظر آتا ہے کہ کہہ دیں یہ وہم ہے۔ان کی مثال اس کبوتر کی طرح ہوتی ہے جو آنکھیں بند کر کے سمجھ لیتا ہے کہ اب بلی اس پر حملہ نہ کر سکے گی۔بیماریاں دنیا میں پڑتی ہیں لوگ احتیاطیں کرتے ہیں۔مثلاً کسی کو بخار آنے لگا جس کا علاج اس زمانہ میں کونین کو قرار دیا گیا ہے اور وہ فائدہ کرتی ہے یا اگر فائدہ نہ کرے تو کم سے کم سخت حملہ اس کے کھانے کے بعد نہیں ہوتا۔لیکن ایسے لوگوں سے اگر کہا جائے تو کہہ دیں گے کہ یہ سب باتیں ہیں کونین میں کیا رکھا ہے۔