خطبات محمود (جلد 22) — Page 249
1941 250 خطبات محمود اور یہ کاغذ اب اخبارات میں شائع کیا جا رہا ہے۔پہلے تو اس کے ایجنٹ علاقہ کے سکھوں کو یہ کاغذ دکھاتے رہے مگر وہ چونکہ حالات سے واقف تھے اور اپنے ساتھ ہمارے عمل کو دیکھ رہے تھے اس لئے ان پر تو اس کا کوئی اثر ہوا نہیں۔وہ جانتے تھے کہ محض ایک فرد کی تجاویز ہیں جنہیں جماعت نے قبول نہیں کیا اور جن پر عمل نہیں ہوا اور یہ تجاویز بھی ایک اشتعال کے وقت کی ہیں۔ایسے اشتعال کے وقت کی کہ اگر کبھی سکھوں پر ایسا وقت آئے تو وہ اس سے لاکھوں گنا زیادہ سخت تجاویز کریں یا سکھوں کے کسی مقدس مقام پر جا کر کوئی عمارت گرا دی جائے تو ہزاروں سکھ ایسے ہی خیالات کا اظہار نہ کریں گے؟ اگر کریں گے اور ضرور کریں گے تو یہ تو احمدیوں کی شرافت ہے کہ ان میں سے صرف ایک شخص کے ذہن میں ایسی تجاویز آئیں، صرف ایک سے اشتعال ظاہر ہوا اور باقی ساری قوم نے اس اشتعال کو دبا لیا اور اس شخص کی تحریک کو قوم نے قبول نہ سکھوں کو تو اس پر خوش ہونا چاہئے تھا کہ ایسے جوش کے خیالات کو قوم نے قبول نہیں کیا۔مگر عجیب بات ہے کہ وہ بجائے ممنون ہونے کے الٹا شور مچا رہے ہیں۔میرے نزدیک تو حکومت کے لئے بھی یہ شکریہ کا موقع تھا۔یقینا اس کی کوئی اور مثال نہیں مل سکتی کہ کسی قوم نے ایسے اشتعال کے موقع پر ایسے محتمل اور صبر کا نمونہ دکھایا ہو۔صرف ایک احمدی جماعت ہی ہے جس نے ایسے شدید اشتعال کے موقع پر ایسے صبر کا نمونہ دکھایا ہے۔مگر افسوس ہے کہ اس پر اس کی تعریف کرنے کی بجائے الٹا شور مچایا جا رہا ہے۔آج ہر عظمند تسلیم کرتا ہے کہ یہ بہت نازک موقع ہے اور جو لوگ آج ایک بارہ سال کی پرانی بات کو لے کر خواہ مخواہ فتنہ انگیزی کرتے ہیں ان کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ موقع کی نزاکت کو نہیں سمجھتے۔چاہئے تو یہ تھا کہ اگر کوئی اتنی پرانی بات واقع میں بھی ہوتی تو بھی اسے نظر انداز کر دیتے اور کہہ دیتے کہ ایسی باتوں کا وقت نہیں پھر دیکھا جائے گا۔مگر یہاں تو کوئی بات بھی نہیں اور