خطبات محمود (جلد 22) — Page 242
1941 243 خطبات محمود ایسے موقع پر ایک ہی پہلو سامنے ہوتا ہے یعنی پیشگوئی پورا ہونے پر خوشی کا پہلو۔مگر طریق غلط ہے۔یہ خوشی کا ہی موقع نہیں ہوتا بلکہ متضاد جذبات کا وقت ہوتا۔ایک طرف تو خوشی ہوتی ہے کہ پیشگوئی پوری ہو رہی ہے اور دوسری طرف رنج کہ اللہ تعالیٰ کے بندے عذاب میں مبتلا ہو رہے ہیں۔پس ایسے وقت میں مومن کے دل میں متضاد جذبات پیدا ہونے چاہئیں۔خوشی کے جذبات اس لئے کہ پیشگوئی پوری ہو رہی ہے اور رنج و الم کے جذبات اس لئے کہ ہمارے بھائی جو ایک ہی آدم کی اولاد ہیں اور جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہماری ہی طرح جنت بنائی تھی اور اپنے فضلوں کے دروازے کھولے تھے، انہوں نے اپنے ہاتھوں سے فضل کے یہ دروازے بند کر کے اس کے غضب " کھڑکیوں کو اپنے لئے کھول لیا۔عذاب کے موقع پر وہی لوگ جن کے دل میں خشیت نہیں ہوتی ایک پہلو یعنی خوشی کا پہلو لیتے ہیں۔ہی نہیں کی پس انسان کو ہمیشہ دونوں پہلو مد نظر رکھنے چاہئیں لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت اہم باتوں کو نظر انداز کر کے چھوٹی چھوٹی باتوں میں پڑ جاتے ہیں اور انہیں یہ پتہ بھی نہیں ہوتا کہ دنیا کس مصیبت میں مبتلا ہے۔وہ ادھر ادھر و اور سیدھے ایک ہی طرف چلے جاتے ہیں۔جس طرح سور سیدھا ہی چلتا جاتا ہے خواہ آگے سے کوئی نیزہ مار دے یا کوئی اور خطرہ ہو وہ رستہ بدلتا نہیں بلکہ سیدھا ہی چلتا جاتا ہے۔اسی طرح یہ لوگ بھی رستہ نہیں بدلتے اور پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو چھوٹے چھوٹے فتنوں سے بڑی تباہیوں کے سامان پیدا کر لیتے ہیں۔شیعہ سنیوں کو دیکھ لو ان میں کیسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا ہے کوئی بڑی بات نہیں۔یہ نہیں کہ شیعہ حضرت علیؓ کو بزرگ سمجھتے ہیں اور سنی نہیں سمجھتے۔یہ نہیں کہ شیعہ ان کو امت اسلامیہ میں اعلیٰ مرتبہ کا سمجھتے ہیں اور سنی نہیں سمجھتے۔بھی ان کو بزرگ سمجھتے ہیں اور سنی بھی۔شیعہ ان کو امام کہتے ہیں اور ستی خلیفہ مانتے ہیں۔بات ایک ہی ہے خلیفہ بھی تو امام ہی ہوتا ہے۔سنی بھی اہل سنی بھی اہل بیت سے