خطبات محمود (جلد 22) — Page 241
1941 242 خطبات محمود پڑھ سکتے ایک نمونہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے بیان فرمایا ہے۔سب لوگ جانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی ترقی میں طاعون کا بڑا حصہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے طاعون کے بڑے زور سے پھیلنے، دیر تک قائم رہنے اور اس سے لاکھوں جانوں کے تلف ہونے کی پیشگوئی فرمائی تھی اور رسول کریم صلی ا یکم اور دیگر انبیاء سابق کے کلام میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک ایسا مرض پھوٹے گا۔پس جب ملک میں طاعون پھوٹا اور سخت زور سے چھوٹا تو دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہوا اور ہزاروں لوگ جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔گویا طاعون کی شدت، اس کا دیر تک رہنا اور لاکھوں جانوں کی اس سے ہلاکت جماعت ترقی کا باعث ہوئی۔پھر پیشگوئی کا پورا ہونا اپنی ذات میں خوشی کی بات ہے۔مگر ایسے موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو نمونہ پیش کیا وہ عجیب اور مومنوں کے لئے اسوہ ہے۔آپ نے مکان میں ایک جگہ بیت الدعا بنایا ہوا تھا وہ اب بھی موجود ہے۔چھوٹی سی جگہ ہے جہاں دو آدمی کھڑے ہو کر نماز ہیں۔آپ رات یا دن کے وقت جب بھی دعا کرتے بالعموم یہیں کرتے تھے۔جب یہ جگہ تعمیر ہونے لگی تو مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے عرض کیا کہ اگر ایسا ہی کمرہ اس کی چھت پر اور بن جائے تو میں بھی وہاں حضور کے ساتھ دعا میں ہو جایا کروں۔چنانچہ آپ نے اس کے اوپر بھی کمرہ بنوا دیا اور مولوی بھی وہاں جا کر دعا کیا کرتے تھے۔مولوی صاحب کا بیان ہے کہ ایک دفعہ کے کمرہ سے رونے اور گریہ و زاری اور کراہنے کی آواز آ رہی تھی اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کوئی عورت دردِ زہ سے کراہ رہی ہے۔میں نے کان لگا کر سننا شروع کیا کہ کیا بات ہے تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام دعا کر رہے ہیں اور گریہ و زاری کرتے ہوئے آہستہ آہستہ عرض کر رہے ہیں کہ الہی اگر تیرے بندے اسی طرح طاعون سے مرتے گئے تو پھر ایمان کون لائے گا؟ کتنے احمدی ہیں جو کسی انداری پیشگوئی کے پورا ہونے پر ایسا نمونہ دکھاتے ہیں۔عام طور پر شریک۔