خطبات محمود (جلد 22) — Page 222
خطبات محمود 223 1941 حصہ ان لوگوں کے پاس تلاش کرو جن کی محبت یا بغض کے مقابلہ میں تم نے میری محبت کو قربان کر دیا۔میری محبت تو تمہارے دلوں میں اتنی ہی تھی کہ تم نے عبد الرحمان یا کسی فضل الہی یا کسی رشید احمد کے مقابلہ میں اسے ٹھکرا کر رکھ دیا اور جس مقام کو میں نے اجتماع کا ذریعہ قرار دیا تھا اس میں آنا تم نے پسند نہ کیا۔پس اب تم مجھ سے کیا امید رکھتے ہو؟ آخر بتلاؤ کہ محمد صلی ا نام کی اس بات کا تم کیا جواب دو گے اور کس طرح تم اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو سکو گے۔میں نے یہ باتیں تمہیں اتنی کثرت اور اتنے تواتر کے ساتھ بتائی ہیں کہ اگر میں یہ باتیں پتھروں سے کہتا تو وہ پگھل جاتے، اگر میں دریاؤں سے یہ باتیں کہتا تو وہ لرز جاتے، اگر میں خشک ریگستانوں سے یہ باتیں کہتا تو ان کے کلیجے پھٹ جاتے مگر تم میں سے کچھ انسان ایسے ہیں کہ ان پر میری ان باتوں کا کوئی اثر نہیں۔میں تمہیں اپنی باتیں نہیں سنا رہا بلکہ خدا کی باتیں سنا رہا ہوں۔مجھے تم پر حکومت کا کوئی شوق نہیں۔میں کچھ کہتا ہوں تمہاری بھلائی اور تمہارے فائدہ کے لئے کہتا ہوں۔آخر دنیا میں نے مسجدیں نہیں بنائیں اور نہ میں نے نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے۔یہ تمام احکام خدا اور اس کے رسول کے ہیں۔میں ان باتوں کے معاوضہ میں تم سے کوئی فیس وصول نہیں کرتا کہ تم یہ کہو کہ ہمیں باتیں بتا کر یہ خود فائدہ اٹھاتا ہے۔میں خالص تمہاری بہبودی اور خیر خواہی کے لئے یہ باتیں کہتا ہوں مگر تم ہو کہ سمجھتے ہو خبر نہیں ان باتوں سے اسے کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ آخر تمہارے پاس کوئی پارس نہیں اور نہ میں نے کوئی پیتل کی تختیاں بنوا کر مسجدوں میں رکھی ہوئی ہیں کہ مبادا تمہیں خیال ہو کہ ان تختیوں پر تم پاؤں رکھتے ہو تو وہ سونے کی بن جاتی ہیں۔اور میں انہیں اپنے مصرف میں لے آتا ہوں۔اگر تمہیں یقین نہ ہو تو تم مسجدوں کو اچھی طرح دیکھ لو۔وہاں کوئی پیتل کی تختیاں پڑی ہوئی نہیں کہ تمہیں یہ خیال ہو کہ میں تمہیں نماز پڑھنے کی اس لئے تحریک کرتا ہوں کہ ان تختیوں پر تمہارا پاؤں پڑنے سے وہ پیتل سونا بن جائے گا اور پھر میں اسے اٹھا کر اپنے گھر لے آؤں گا۔