خطبات محمود (جلد 22) — Page 221
1941 222 خطبات محمود اسی مسجد میں نماز پڑھ کر وہ خد اتعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔گویا دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہتا ہے کہ آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کی کیا حیثیت تھی۔وہ معمولی انسان تھے اور ان کی بنائی ہوئی مسجدیں خدا تعالیٰ نے منسوخ کر دیں۔موسیٰ بھی ایک مسکین بندے تھے جن کی مسجد منسوخ کر دی گئی، داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام وغیرہ بھی بے حقیقت تھے جن کی مسجدیں خدا نے منسوخ کر دیں۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام بھی ایک معمولی انسان تھے جن کی مسجد منسوخ کر دی گئی۔مگر میں اتنی شان کا آدمی ہوں کہ میری مسجد کبھی منسوخ ہی نہیں ہو سکتی اور اگر منسوخ ہو جائے تو خدا کی خدائی کس طرح باقی رہے۔اب بتاؤ کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارا یہ نقطہ نگاہ صحیح ہے اور کیا تم اسے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکتے ہو۔پھر سوچو قیامت کے دن جب محمد صلی اللہ ہم یہ سوال کریں گے کہ میں نے مسجدیں اس لئے بنائی تھیں تاکہ مسلمان اکٹھے ہوں ان کے شکوے اور گلے دور ہوں اور گو وہ آپس میں جھگڑ بھی لیں مگر میرے ہاتھ پر اور میرے نام پر وہ دن رات میں پانچ دفعہ ایک مقام پر اکٹھے ہو جایا کریں پھر تم کیوں مسجدوں میں نہیں آیا کرتے تھے تو کیا اس سوال کے جواب میں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ اے صلی ام آپ ہمیں پیارے تو ہیں مگر اتنے نہیں کہ فلاں دشمن کے مقابلہ میں ہم آپ کے پیار کو ترجیح دے سکتے۔اس کا بغض ہمارے دل میں اتنا زیادہ تھا کہ ہم نے آپ کی محبت کو نظر انداز کر دیا اور اس بغض کی وجہ سے مسجد میں جانا پسند نہ کیا۔بتاؤ کہ کیا اس جواب کے بعد محمد صلی لل ل ل لم تمہیں اپنے حوض کوثر پر لے جائیں گے؟ اور کیا وہ تمہاری شفاعت کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے؟ کیا تم کہہ سکو گے کہ یا رسول اللہ فلاں عبد الرحمان یا فلاں فضل الہی کا بغض ہمارے نزدیک پیار کے مقابلہ میں بہت اہمیت رکھتا تھا اور اسی وجہ سے ہم نے آپ کے پیار کو تو رڈ کر دیا اور اس کے بغض کو اختیار کر لیا۔اب يَا رَسُول اللہ ہماری شفاعت کیجئے اور ہمیں کوثر کے انعامات میں سے حصہ دیجئے۔محمد صلی ا ہم تو تمہیں یہی کہیں گے کہ جاؤ اور اپنا کے