خطبات محمود (جلد 22) — Page 17
خطبات محمود مگر 17 $1941 اگر آج ایسا ہی کوئی واقعہ ہو تو کمانڈر استعفیٰ دے کر الگ ہو جائے اور کہے کہ ایسی جاہل منسٹری کے تابع میں کام نہیں کر سکتا۔اگر ایک لاکھ منظم فوج کو فتح کرنے کے لئے مجھے بھیجا جاتا ہے تو کم سے کم سوا لاکھ آدمی تو چاہئے اور اگر دفاعی جنگ ہو تب بھی ستر اسی ہزار آدمیوں سے کم تو کسی صورت میں نہیں ہونا چاہئے۔یہاں پانچ سو ہزار بلکہ بعض دفعہ سو، دو سو آدمی بھیج دیئے جاتے ہیں اور مسلمان ان کو دیکھ کر خوشی سے نعرہ بلند کرتے ہیں کہ الله اكتر۔مگر انہی نظاروں میں سے ایک نظارہ تو بہت ہی حیرت انگیز ہے۔ایک جگہ اسلامی ہے۔ایک جگہ اسلامی لشکر پر بہت دباؤ پڑ گیا اور ہزارہا آدمی دشمن کی فوج کا حملہ آور ہو گیا۔اس وقت اسلامی کمانڈر نے شکایت کی کہ ہمارے پاس فوج کافی نہیں حضرت عمرؓ نے دیکھا تو مدینہ میں اس وقت جنگ بھیجنے کے لئے کوئی آدمی نہیں تھا اور باہر سے لوگوں کو بلانے میں دیر لگتی تھی۔معدی کرب ایک صحابی تھے حضرت عمرؓ نے ان کو بلایا اور کہا میرا یہ خط کمانڈر انچیف کے پاس لے جاؤ اور جا کر لڑائی میں شامل ہو جاؤ۔اس خط میں کمانڈر انچیف کے نام پ نے لکھا تھا تمہاری امداد کی درخواست پہنچی میں معدی کرب کو بھیج رہا ہوں۔میں نے اس کو رسول کریم صلی الم کے ساتھ لڑتے دیکھا آدمی دو ہزار کے قائمقام ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ جب معدی کرب لشکرِ اسلامی اور حضرت عمر کا خط انہوں نے کمانڈر انچیف کو جا کر دیا تو مسلمانوں نے کوئی شکوہ نہیں کیا، انہوں نے کوئی گلہ نہیں کیا بلکہ سارے مسلمانوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور وہ کہنے لگ گئے کہ معدی کرب آ گیا اب ہماری فتح اور بھی یقینی ہو گئی ہے۔غرض اسلامی تاریخ میں اس قسم کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں جن سے پتہ ہے کہ عرب کے لوگوں نے جب فتح مکہ کا نظارہ دیکھا تو ان کے دل کی ایمانی حالت ایسی بدل گئی کہ ان کی نگاہ میں دنیا کی کسی چیز کی کوئی حقیقت نہ رہی۔انہوں نے سمجھ لیا کہ جو کچھ کر سکتا ہے ایمان کر سکتا ہے کیونکہ محمد صلی الیم نے ایمان سے ہی ย " ہے اور یہ ایک