خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 118

$1941 118 خطبات محمود کے لئے اس نے بھیجا وہ بھی پر حکمت ہے۔پس ہمارے پاس جو کتاب ہے اس میں کوئی بات ایسی نہیں جس کے متعلق ہم کہہ سکیں کہ ہم اسے کیوں کریں یا کیوں نہ کریں۔اسی طرح ہمارے رسول نے جو کچھ فرمایا ہے اس میں کوئی بات بھی ایسی نہیں جس کے متعلق ہم کہہ سکیں کہ چونکہ رسول کریم صلی الیم نے ایسا فرما دیا ہے اس لئے ہم کرتے ہیں ورنہ اس میں حکمت کوئی نہیں۔ہر چھوٹی سے چھوٹی بات سے لے کر بڑی سے بڑی بات تک پر حکمت ہے۔بیشک بعض باتوں کی حکمت ایک وقت سمجھ میں نہ آئے مگر دوسرے وقت اس کی حکمت ضرور سمجھ میں آجاتی ہے۔پس قرآن اور رسول کریم صلی ال نیم کی کوئی بات بھی حکمت سے خالی نہیں ہر بات ہمارے فائدہ کے لئے ہے اور ہر حکم ہماری ترقی کے لئے دیا گیا ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ اخلاقی اور روحانی ترقی کے لئے رسول کریم صلی ا نام کے احکام کی طرف زیادہ توجہ کریں اور ہمیشہ ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔میں نے شروع خطبہ میں فرقہ اہلحدیث کا ذکر کیا ہے۔مگر میں نے یہ نہیں کہا کہ تم اہلحدیث کی طرح بن جاؤ۔وہ خشک لوگ ہیں انہوں نے رسول کریم صلی الیم باتوں کی حکمتوں کو نہیں سمجھا مگر تم رسول کریم صلی للی یا ملک کے ہر حکم کی حکمت کو سمجھو اور اس پر حکمت کلام کو سمجھ کر اس پر عمل کرو۔رسول کریم صلی للی نیم کے پر حکمت کلام ہے سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی ہر ضرورت کو پورا کرتا مگر اہلحدیث سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے جب دو حدیثوں کو بظاہر آپس میں متضاد دیکھا تو کہہ دیا کہ فلاں حدیث ضعیف ہے اور فلاں قوی۔حالانکہ بسا اوقات وہ دونوں صحیح ہوتی ہیں البتہ دونوں کے مواقع مختلف ہوتے ہیں۔جیسے مشہور ہے کہ کوئی مالدار شخص حد سے زیادہ موٹا ہو گیا۔اس نے دور دور تک اپنے آدمی بھجوائے ہوئے تھے اور انہیں ہدایت دی تھی کہ کھانے کی جو بھی اچھی چیز نظر آئے وہ فوراً مجھے بھجوا دیا کرو۔کروڑ پتی آدمی تھا اور جب کسی کا شغل ہی یہ ہو کہ ہر وقت چاروں طرف اس کے گماشتے پھرتے رہیں اور کھانے کے لئے عمدہ سے عمدہ چیزیں بھجواتے رہیں تو