خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 119

$1941 119 خطبات محمود خود ہی سمجھ لو کہ کھا کھا کر اس کی کیا کیفیت ہو گئی ہو گی۔وہ مالدار آدمی بھی آخر اتنا موٹا ہو گیا کہ چلنا پھرنا اور زندگی کے دن گزارنا اس کے لئے مشکل ہو گیا۔وہ اپنے علاج کے لئے ایک ڈاکٹر کے پاس گیا اس نے کہا میرا مشورہ آپ کو یہ ہے کہ آپ فلاں ڈاکٹر کے پاس جائیں وہ بڑے مشہور آدمی ہیں اور علاج میں اچھی مہارت رکھتے ہیں میرے علاج سے آپ کو فائدہ نہیں ہو گا۔آپ اگر صحت چاہتے ہیں تو اسی کے پاس جائیے۔چنانچہ وہ اس ڈاکٹر کے شہر کی طرف گیا اور وہاں پہنچ کر بمشکل و نوکروں کا سہارا لیتا اور قدم بقدم چلتا ہوا وہ اس ڈاکٹر کے پاس پہنچا اور اس نے دیکھا کہ ڈاکٹر نے دستر خوان بچھایا ہوا ہے اور مریضوں کو پاس بٹھا کر انہیں کہہ رہا ہے کہ یہ بھی کھاؤ اور وہ بھی کھاؤ۔کسی سے کہتا ہے کہ تمہیں یہ شوربہ کی پیالی ضرور پینی پڑے گی دوسرے سے کہتا کہ تیتر کی ٹانگیں تم نے چھوڑ دی ہیں یہ بھی ، کھا کر اٹھو، کسی سے کہتا کہ یہ کباب تمہیں ضرور کھانے پڑیں گے اور کسی سے کہتا کہ جب تک انڈے نہ کھا لو میں تمہیں اٹھنے نہیں دوں گا۔وہ امیر یہ دیکھ کر بڑا خوش ہوا اور کہنے لگا وہ کیسے بیوقوف ڈاکٹر تھے جو مجھے فاقہ کرنے کی نصیحت کرتے تھے۔علاج تو یہ ہے کہ زور دے کر مریض کو اچھی چیزیں کھلائی جائیں۔غرض جب ڈاکٹر انہیں کھلا کر فارغ ہو گیا تو یہ پیش ہوا۔اس نے کہا میں آپ کا علاج کرنے کے لئے تو تیار ہوں مگر شرط یہ ہے کہ ایک مہینہ کے لئے آپ اپنے نوکر واپس بھجوا دیں اور جس طرح میں کہوں اس طرح عمل کریں۔وہ کہنے لگا ڈاکٹر صاحب میں آپ کے مزاج کو سمجھ گیا ہوں اور مجھے نوکروں کو واپس بھجوا دینے میں کوئی عذر نہیں۔اس نے خیال کیا کہ میں اگر دو مرغ کھانے کے لئے مانگوں گا تو یہ تین مرغ دے گا اور اگر میں چار انڈے مانگوں گا تو یہ چھ دے گا۔غرض اس نے خوشی خوشی نوکر واپس بھیجوا دیئے اور انہیں کہہ دیا کہ فلاں تاریخ آ جانا۔جب نوکر چلے گئے تو اس ڈاکٹر نے پہلے دن تو اسے خوب اچھا کھانا کھلایا اور وہ بڑا خوش رہا۔مگر دوسرے دن صبح کے وقت اس نے ایک سوکھا ٹوسٹ چائے کے ساتھ اپنے نوکر کے ذریعہ