خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 74

$1941 74 خطبات محمود حضرت خلیفہ اول کو لکھا کہ یہ مکان ہمارا ہے مصیبت کے وقت ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔اب ہم سے پانچ ہزار روپیہ لے لیا جائے اور یہ ہمیں ہی دے دیا جائے۔ہم نے بھی پانچ ہزار میں دیا تھا اور مکان زیادہ قیمت کا ہے اور اس وجہ سے کہ ہم نے بھی مصیبت کے وقت اور قرضہ کی ادائیگی کے لئے اسے فروخت کر دیا تھا ہم اس رعایت کے مستحق ہیں اور اگر یہ مکان اب ہمیں اسی قیمت پر دے دیا جائے تو یہ ایک طرح کا ہم پر رحم ہو گا۔یہ بات حضرت خلیفہ اول کے دل کو لگی آپ نے سفارش کی اور فرمایا کہ یہ مکان ان لوگوں کو پانچ ہزار روپیہ میں دے دیا جائے۔ان کارپردازانِ انجمن نے حضرت خلیفہ اول کو لکھا کہ مکان زیادہ قیمت کا ہے اور زیادہ قیمت مل سکتی ہے۔اگر پانچ ہزار میں دے دیا گیا تو سلسلہ کو نقصان ہو گا۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ بے شک یہ زیادہ مالیت کا ہے مگر دیکھنا ہے کہ ان لوگوں نے مصیبت کے وقت قرضہ کی رقم پوری کرنے کے لئے دے ނ دیا تھا اور ہمارے سلسلہ کی بنیاد چونکہ اخلاق پر ہے اس لئے ہمیں ان لوگوں حسن سلوک کرنا چاہئے مگر ان لوگوں نے پھر اصرار کیا کہ بعض لوگ سات آٹھ ہزار دیتے ہیں اور ممکن ہے تو ہزار ہی مل جائے۔اور جب انہوں نے زیادہ اصرار کیا تو حضرت خلیفہ اول نے ناراض ہو کر تحریر فرما دیا کہ جس طرح مرضی ہو کرو میں اس میں دخل نہیں دیتا۔انجمن کا اجلاس بلایا گیا۔مسجد مبارک کے ساتھ جو کو ٹھڑی ہے جس میں مولوی محمد اسماعیل صاحب مرحوم بیٹھا کرتے تھے ، مولوی شیر علی صاحب بھی بیٹھ کر کام کرتے رہے ہیں یہاں مولوی محمد علی صاحب نے دفتر بنایا ہوا تھا اور انجمن کے اجلاس یہیں ہوا کرتے تھے۔یہ کسی زمانہ میں غسلخانہ بھی رہا ہے اور اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی بیٹھک بھی رہی ہے اور اسی جگہ سرخ چھینٹوں والا نشان ظاہر ہوا تھا۔خیر اس جگہ سب ممبر جمع ہوئے۔سوال اس رنگ میں پیش ہوا کہ اس مکان کو زیادہ سے زیادہ قیمت پر فروخت کر دیا جائے۔یہ لوگ