خطبات محمود (جلد 22) — Page 672
* 1941 672 خطبات محمود مکان بھی مل گیا اور ساتھ ہی مسجد بھی مل گئی۔تھوڑی دیر کے بعد میں باہر نکلا اور میں نے دیکھا کہ اِکا دُکا احمدی وہاں آ رہے ہیں۔خواب میں میں حیران ہوتا ہوں کہ میں نے تو ان سے یہاں آنے کا ذکر نہیں کیا تھا۔ان کو جو میرے یہاں آنے کا پتہ لگ گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی محفوظ جگہ نہیں۔چاہے یہ دوست ہی ہیں لیکن بہر حال اگر دوست کو ایک مقام کا علم ہو سکتا ہے تو دشمن کو بھی ہو سکتا ہے۔محفوظ۔مقام تو نہ رہا۔چنانچہ خواب میں میں پریشان ہوتا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ ہمیں پہاڑوں میں اور زیادہ دور کوئی جگہ تلاش کرنی چاہئے۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ شیخ محمد نصیب صاحب آ گئے ہیں۔میں اس وقت مکان کے دروازے کے سامنے کھڑا ہوں۔انہوں نے مجھے سلام کیا میں نے ان سے کہا کہ لڑائی کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا دشمن غالب آگیا ہے۔میں کہتا ہوں کہ مسجد مبارک کا کیا حال ہے۔انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑ رہا ہے۔میں نے کہا اگر مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑ رہا ہے تب تو کامیابی کی امید ہے۔میں اس وقت سمجھتا ہوں کہ ہم تنظیم کے لئے وہاں آئے ہیں اور تنظیم کرنے کے بعد دشمن کو پھر شکست دے دیں گے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ اور دوست بھی وہاں پہنچ گئے ہیں ان کو دیکھ کر مجھے اور پریشانی ہوئی اور میں نے کہا کہ یہ تو بالکل عام جگہ معلوم ہوتی ہے۔حفاظت کے لئے یہ کوئی خاص مقام نہیں۔ان دوستوں میں ایک حافظ محمد ابراہیم صاحب بھی ہیں اور لوگوں کو میں پہچانتا نہیں۔صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ احمدی ہیں۔حافظ صاحب نے مجھ سے مصافحہ کیا اور کہا کہ بڑی تباہی ہے، بڑی تباہی ہے۔پھر ایک شخص نے کہا کہ نیلے گنبد میں ہم داخل ہونے لگے تھے مگر وہاں بھی ہمیں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔میں نے تو نیلا گنبد لاہور کا ہی سنا ہوا ہے۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ۔کوئی اور بھی ہو بہر حال اس وقت میں نہیں کہہ سکتا کہ نیلے گنبد کے لحاظ سے اس کی کیا تعبیر ہو سکتی ہے۔البتہ اس وقت بات کرتے کرتے میرے دل میں خیال پیدا ہوا