خطبات محمود (جلد 22) — Page 637
* 1941 637 خطبات محمود سے ان لوگوں کا فائدہ اٹھا لینا جو اپنی حیثیت اور اپنی مالی وسعت کے مقابلہ میں بہت کم قربانی کر رہے ہیں۔یہ انسانوں کی نگاہ میں تو بے شک اچھا بن جانے والی بات ہے مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں انہیں اچھا نہیں بنا سکتی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس چندہ میں حصہ لینے والے وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے ایک سال میں دو دو ماہ کی آمد دے دی تھی۔اسی طرح اس میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے اپنا اندوختہ دے دیا تھا۔ان لوگوں کے ساتھ میں نے یہ رعایت کر دی تھی کہ وہ اپنا سارا اندوختہ دے چکے ہیں یا اپنی حیثیت سے بہت بڑھ کر مالی قربانی کر تمام چکے ہیں اس لئے ان کے چندوں کو یا تو باقی سالوں میں پھیلا لیا جائے اور یا پھر سال انہوں نے جس قدر چندہ دیا تھا اسی قدر چوتھے سال دے دیں اور پھر ہر سال اس پر زیادتی کرتے چلے جائیں۔مگر ان کے علاوہ ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی ایک ماہ کی آمد سے زیادہ چندہ دیتے ہیں بلکہ ایسے بھی ہیں جو قریباً دو ماہ کی آمد کے برابر اس میں چندہ دیتے ہیں۔اسی طرح بعض اپنی ماہوار آمد کا نوے فیصدی چندہ دیتے ہیں بعض اپنی ماہوار آمد کا اسی فیصدی چندہ دیتے ہیں۔بعض اپنی ماہوار آمد کا ستر فیصدی چندہ دیتے ہیں۔بعض اپنی ماہوار آمد کا ساٹھ فیصدی چندہ دیتے ہیں اور بعض اپنی ماہوار آمد کا پچاس فیصدی چندہ دیتے ہیں۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے بعض ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے صرف پانچ روپے چندہ دے ے کر اسے بڑھانا شروع کر دیا اور سمجھ لیا کہ وہ سَابِقُونَ میں شامل ہو گئے ہیں۔ایسے لوگوں کی اگر سو روپیہ ماہوار آمد ہے اور وہ پانچ روپیہ چندہ دیتے ہیں تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ وہ بارہ سو روپیہ سالانہ آمد پر صرف پانچ روپے چندہ دیتے ہیں۔اگر وہ فی سینکڑہ صرف آٹھ آنے چندہ دیتے تب بھی چھ روپے بنتے مگر وہ پانچ روپے دیتے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک سو روپیہ آمد کے مقابلہ میں آٹھ آنے کی بھی قربانی نہیں کرتے اور اگر کسی کی ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار آمد ہے اور وہ صرف پانچ روپے چندہ دیتا ہے تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ وہ ڈیڑھ سو روپیہ لے کر