خطبات محمود (جلد 22) — Page 598
* 1941 598 خطبات محمود ابھی وہ اعلیٰ نمونہ پیش نہیں کیا جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے پھر بھی ساری دنیا میں ہماری جماعت تبلیغ کر رہی ہے اور دنیا کے لوگ اس بات کے معترف ہیں کہ اگر آج دنیا کے آبادی ہے حالانکہ پردہ پر کوئی جماعت اسلام کی تبلیغ کر رہی ہے تو وہ احمدیہ جماعت ہی ہے ہماری جماعت کی تعداد کتنی ہے۔کہتے ہیں " کیا پدی اور کیا پدی کا شور با“ سارے ” ہندوستان میں اتنے احمدی بھی تو نہیں جتنی ضلع گورداسپور کی آبادی ہے مگر باوجود اس کے ہماری جماعت کی تعداد ہندوستان میں اتنی بھی نہیں جتنی ضلع گورداسپور کی ، پھر بھی ہماری جماعت وہ کام کر رہی ہے جو سارے ہندوستان کے مسلمان مل کر بھی نہیں کر رہے۔امریکہ میں ہمارا مشن قائم ہے، انگلستان میں ہمارا مشن قائم ہے، گولڈ کوسٹ میں ہمارا مشن قائم ہے، نائیجیریا میں ہمارا مشن قائم ہے، سیر الیون میں ہمارا مشن قائم ہے۔اسی طرح ملایا، سنگا پور ، چین، سماٹرا، جاوا اور دوسرے ممالک میں ہمارے مشن قائم ہیں۔اس کے مقابلہ میں مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہیں بلکہ اب بھی کئی مسلمان بادشاہ موجود ہیں۔چنانچہ ایران کا بادشاہ مسلمان ہے، افغانستان کا بادشاہ مسلمان ہے۔عرب کا بادشاہ مسلمان ہے۔اسی طرح مصر اور عراق کے بادشاہ مسلمان ہیں۔پھر ترکوں کی حکومت ہے اور یہ تمام حکومتیں اربوں ارب روپیہ سالانہ آمد رکھتی ہیں مگر بتاؤ کیا ان میں سے کوئی سلطنت بھی اسلام کی تبلیغ کر رہی ہے اور کیا ان کی جد و جہد سے کبھی ایک شخص بھی مسلمان ہوا۔مسلمان کرنا تو در کنار ان کی طرف سے ہمیشہ یہ اعلان ہوتا رہتا ہے کہ ہماری حکومتوں کو مذہب کوئی واسطہ نہیں۔حالانکہ حکومت عیسائیوں کو بھی حاصل ہے مگر انہوں نے اپنے مذہب کی تبلیغ کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔انگریزی حکومت یوں آزادی مذاہب کی بڑی حامی ہے مگر ہمیشہ اپنے مشنریوں کی مدد کرتی رہتی ہے۔ظاہر بھی اور مخفی بھی۔کھلے طور پر بھی اور پوشیدہ بھی۔ہندوستان میں بھی پادریوں کی تنخواہوں کے لئے بجٹ میں گنجائش رکھی گئی ہے اور اس کا یہ حصہ وائسرائے کے قبضہ میں ہے اور اس میں کوئی دوسرا دخل نہیں دے سکتا۔تو انگریزی حکومت اپنے مذہب کی