خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 597 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 597

* 1941 597 خطبات محمود اس طرح وہ شیطان کے مقابلہ کے لئے ایک جتھہ بندی کر لیں۔گویا صَابِرُوا کا حکم دے کر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ جب تم نفس کا مقابلہ کر لو گے تو اس وقت شیطان پھر جوش میں آئے گا اور کہے گا۔اوہو! ان پر تو کوئی اثر ہی نہیں ہوا۔یہ تو بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔چنانچہ وہ اپنے چیلوں کو حکم دے گا کہ ان پر اکٹھے ہو کر حملہ کر دو۔اس وقت یاد رکھو کہ وہ اکیلے اکیلے لڑنے کا وقت نہیں ہو گا بلکہ جماعتی صورت میں دشمن کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہو گی۔اس لئے تم اکٹھے ہو جاؤ اور سب مل کر دشمن کا مقابلہ کرو۔اسی لئے فرمایا۔صابِرُوا۔یعنی جب صبر کا نتیجہ نکلے گا اور تم اندرونی دشمن کو زیر کر لو گے تو شیطان اپنے چیلوں کو اکسائے گا اور تمہیں قوم کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔پھر تمہیں اپنے آپ کو بھی ایک قوم کی صورت میں منظم کرنا پڑے گا۔اگر قوم کی صورت میں دشمن کا مقابلہ نہیں کرو گے تو شکست کھا جاؤ گے۔گویا پہلی حالت تو ایسی تھی کہ اس میں انفرادی طور پر اکیلا اکیلا شخص شیطان کا مقابلہ کر سکتا تھا۔دو نہیں کر سکتے تھے۔مگر یہ حالت ایسی ہے جس میں ایک شخص شیطان کا مقابلہ نہیں کر سکتا بلکہ ساری قوم کو شیطان کے مقابلہ کے لئے تیار ہونا پڑتا ہے۔پھر صَابِرُوا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ تمہیں شیطان کے مقابلہ کے لئے اپنے اندر ایک نظائم قائم کرنا چاہئے کیونکہ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی۔جب تک اس کے اندر ایک نظام نہ ہو۔یہی حکمت ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں نظام قائم رکھا ہے۔پہلے نبوت ہوتی ہے اور پھر نبوت کے بعد خلافت آ جاتی ہے تا مسلمان اکٹھے رہیں اور وہ مل کر دشمن کا مقابلہ کر سکیں۔آخر یہ صَابِرُوا کے حکم پر عمل کرنے کی برکت ہی ہے جو تبلیغ کی صورت میں ہمیں اس وقت دکھائی دیتی ہے۔ہماری جماعت کتنی چھوٹی سی ہے مگر باوجود اس کے کہ ہماری جماعت کی تعداد نہایت قلیل ہے اور باوجود اس کے کہ ہماری جماعت نے