خطبات محمود (جلد 22) — Page 583
خطبات محمود 583 * 1941 یا بیوی پر یا کسی اور رشتہ دار پر کوئی الزام آئے تو وہ یہی کوشش کرتے ہیں کہ اسے بے قصور ثابت کریں۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بظاہر ان کی عقل اور ان کا نفس یہی کہتا ہے کہ ان کا عزیز قصور وار نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجرم کی امداد نہیں کر رہے مگر دراصل ان کے نفس کا یہ فیصلہ ان کے تعصب کی وجہ سے ہو۔اور اس لئے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک گنہگار ہوتے ہیں کیونکہ انہوں ہے نے اپنے دل میں ایسے تعصب کو جگہ دی جس سے وہ حقیقت کو سمجھنے سے محروم ہو گئے اور جس کی وجہ سے وہ اپنے عزیز کے مُجرم کو دیکھنے کی توفیق نہ پا سکے۔بعض اوقات بعض دوسرے لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ بری ہے مگر در حقیقت وہ بری نہیں ہوتا اور اگر صرف اپنے یا کسی کے یہ خیال کر لینے سے کہ فلاں شخص بری ہے۔اس کے واقعی بڑی ہونے کا اصول صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس کا کیسا خطرناک نتیجہ نکل سکتا ہے۔کیا وہ لاکھوں کروڑوں ہندو اور عیسائی جو سمجھتے ہیں کہ آنحضرت کی لی لی لی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سچے نہیں ہیں اور ان کا مذہب ہی سچا ہے۔ان کو خدا تعالیٰ سزا نہیں دے گا۔اسلام یہی بتاتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سزا دے گا خدا تعالیٰ ان سے کہے گا کہ بے شک تم سچا نہ سمجھتے تھے مگر جب میں نے ایسے ذرائع تمہارے لئے مہیا کر دیئے تھے کہ تم سچائی کو سمجھ سکتے تھے تو پھر کیوں نہ سمجھا اور ان ذرائع سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا۔وہی شخص سزا سے بچے گا جو واقع میں معذور تھا اور جس تک صداقت نہ پہنچ سکی۔اسی طرح جو شخص اپنے کسی عزیز رشتہ دار کے بارہ میں صداقت کو معلوم کرنے والے ذرائع کو استعمال میں لا کر حقیقت کو معلوم نہیں کرتا وہ خواہ خود یہی سمجھتا ہو کہ اس کا عزیز اس الزام سے بری ها الله سة ہے۔ہے اور اس لئے اس کی مدد کرنے میں گناہ نہیں مگر اللہ تعالیٰ کے حضور وہ گنہگار۔لوگوں میں سے کتنے ہیں جو غیر احمدیوں میں سے نکل کر آئے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ غیر احمدیوں میں اکثر ایسے لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو فعى ( نَعُوذُ بِاللهِ ) جھوٹا سمجھتے ہیں۔پھر کیا اس وجہ سے وہ مجرم نہیں؟ کیا اللہ تعالیٰ